آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں 17 سالہ نوجوان کرکٹر بین آسٹن کی اچانک موت نے دنیا بھر کی کرکٹ برادری کو غمزدہ کر دیا۔
نوجوان کھلاڑی کو نیٹس پر پریکٹس کے دوران گیند گردن پر لگنے سے جان لیوا چوٹ آئی۔
یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب آسٹن ایک بال تھروئنگ مشین سے گیندوں کا سامنا کر رہے تھے۔ وہ ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے، مگر گردن کے تحفظ کے لیے اسٹیم گارڈ استعمال نہیں کر رہے تھے۔
View this post on Instagram
یہ المناک واقعہ 2014 میں آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر فل ہیوز کی یاد تازہ کر گیا، جو اسی طرح کے حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد آج وکٹوریا اور تسمنیئہ کی ٹیموں نے آسٹن کی یاد میں سیاہ پٹیاں باندھ کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور اپنے بیٹ زمین پر رکھ کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔
میچ سے قبل آسٹن کی تصویر اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر دکھائی گئی۔ اسی طرح پرتھ میں ویسٹرن آسٹریلیا اور ساؤتھ آسٹریلیا کی ٹیموں نے بھی مرحوم کے اعزاز میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی آسٹن کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔ ممبئی میں جاری خواتین کے ورلڈ کپ سیمی فائنل کے دوران بھارت اور آسٹریلیا کی ٹیموں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر احترام پیش کیا۔
آسٹریلوی ٹیم نے اپنے بیان میں کہ بھارتی ٹیم کا شکریہ، جنہوں نے بین آسٹن کو خراجِ عقیدت پیش کیا، وہ نوجوان جس نے ہم سب کے پسندیدہ کھیل کے لیے اپنی جان دی۔
فرنٹری گلی کرکٹ کلب، جہاں حادثہ پیش آیا، وہاں لوگوں نے پھول اور بیٹ رکھ کر آسٹن کی یاد کو زندہ کیا۔
View this post on Instagram
کرکٹ وکٹوریا کے چیف ایگزیکٹو نک کمنز نے کہا کہ یہ دکھ کی گھڑی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کرکٹ کی برادری کتنی جڑی ہوئی ہے، اور ہم ایک دوسرے کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ کوئی بھی خود کو آسٹن کے اہلِ خانہ کی جگہ محسوس کر سکتا ہے۔
مرحوم کی یاد میں دنیا بھر کے کرکٹ شائقین نے سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات دیے۔ انگلینڈ کے شائقین گروپ “بارمی آرمی” نے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے گوفنڈمی مہم شروع کی اور لکھا، “آرام سے سو جاؤ، بین آسٹن — تمہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔”
View this post on Instagram
سابق انگلش کپتان مائیکل وان اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ”بین بہت جلد ہم سے رخصت ہو گیا، ہماری ہمدردیاں اس کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہیں۔”
