وفاقی حکومت نے پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 21 کے افسر سید خرم علی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کا نیا ڈائریکٹر جنرل تعینات کر دیا۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سید خرم علی جو اس سے قبل پنجاب حکومت کے ماتحت خدمات انجام دے رہے تھے، اب وزارت داخلہ کے اس اہم تحقیقاتی ادارے کے سربراہ ہوں گے۔
سابق ڈی جی وقارالدین سید کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ان کی برطرفی ادارے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اطلاعات کے بعد عمل میں لائی گئی۔
واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے پیر کے روز NCCIA کے 6 اہلکاروں کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزامات پر گرفتار کیا۔
گرفتار اہلکاروں میں ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز، انچارج زوار، سب انسپکٹر علی رضا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض، یاسر گجر اور مجتبیٰ کامران شامل ہیں۔
یاد رہے کہ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈکی بھائی کی اہلیہ کی درخواست پر ایجنسی کے 9 افسران کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے الزامات پر مقدمہ درج کی گیا تھا۔
🚨🚨#BREAKING: FIA registered FIR on 9 @NCCIAOFFICIAL officials of extorting more than 3 lac dollars & 9 million Pakistan rupees from ducky bhai and also taking heavy bribes from different call centres & online scammers. Alhamdulillah another news of “Asad Toor UNCENSORED” proved pic.twitter.com/ECMOTnVLk8
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) October 28, 2025
اروب جتوئی نے اپنی درخواست میں لکھا کہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ان سےمجموعی طور پر 90 لاکھ روپے بطور رشوت لی جبکہ ڈکی بھائی کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 26 ہزار 420 ڈالر اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے۔
سابق تفتیشی افسرشعیب ریاض نے ڈکی بھائی کو ریلیف دلوانے کےلیے پہلے 60 لاکھ روپے اور بعد میں جوڈیشل کروانے کے لیے مزید 30 لاکھ روپے لیے۔
شعیب ریاض نے رشوت کی رقم اپنے فرنٹ مین کے ذریعے وصول کی اور 50لاکھ روپے اپنے ایک دوست کے پاس رکھوائے۔
اس رقم سے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، 5 لاکھ روپے حصہ دیا گیا۔
