عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد فی اونس سونا دوبارہ 4 ہزار ڈالر کی سطح عبور کر گیا۔
سونے میں سرمایہ کاروں کی نئی دلچسپی کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی گراوٹ اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے ممکنہ شرح سود میں کمی کی توقعات ہیں۔
منگل کی صبح 0141 جی ایم ٹی تک اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,009.39 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو پیر کے روز 3 فیصد کی تیز گراوٹ کے بعد اکتوبر 10 کے بعد کی کم ترین سطح پر آگیا تھا۔
دسمبر ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 4,022.10 ڈالر فی اونس پر بند ہوئے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر نے کہا کہ حالیہ کمی کے بعد سرمایہ کاروں نے خریداری میں دلچسپی دکھائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “جو سرمایہ کار موقع کے انتظار میں تھے، وہ اب موجودہ سطح پر سونا خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ڈالر میں معمولی کمزوری نے بھی سونے کو سہارا دیا ہے۔”
امریکی ڈالر انڈیکس میں 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی، جس سے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا خریدنا نسبتاً سستا ہو گیا۔
تجارتی روابط اور عالمی سیاست کا اثر
اگرچہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات نے عالمی مارکیٹ میں اعتماد بڑھایا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونا اب بھی شرح سود میں کمی کی توقعات کے باعث مستحکم رہے گا۔
دونوں ممالک کے اقتصادی حکام نے ممکنہ تجارتی معاہدے کا مسودہ تیار کیا ہے، جو اس ہفتے صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ادھر ٹرمپ نے ایشیا کے پانچ روزہ دورے کے دوران ملائیشیا میں چار جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی و معدنی وسائل کے معاہدوں کا اعلان کیا۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ تجارتی کشیدگی میں کمی سے سونا بطور “محفوظ سرمایہ” کم پرکشش ہو سکتا ہے، مگر شرح سود میں ممکنہ کمی اور عالمی غیر یقینی حالات اسے اب بھی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنا رہے ہیں۔
پاکستان میں سونے کی قیمت
یاد رہے کہ گزشتہ روز ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت (gold prices Pakistan) میں 3300 روپے کی کمی ہوئی تھی۔
اس کمی کے بعد سونے کے فی تولہ نرخ 4 لاکھ 30 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گئے تھے۔
اسی طرح دس گرام سونے کے نرخ میں 2829 روپے کمی ہونے سے قیمت 3 لاکھ 68 ہزار 966 روپے ہو گئی تھی۔
