امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم سنائے تاکائچی سے ملاقات کے دوران ان کی قیادت اور دفاعی پالیسیوں کو ’’قابلِ تعریف‘‘ قرار دیتے ہوئے جاپان کے ساتھ تجارتی اور معدنی وسائل سے متعلق اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تاکائچی نے بھی ٹرمپ پر تعریفوں کی بارش کی، اور ملاقات کے دوران اعلان کیا کہ وہ امریکی صدر کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کریں گی۔
یاد رہے کہ حال میں منتخب ہونے والی جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم سنائے تاکائچی سابق جاپانی وزیرِاعظم اور ٹرمپ کے قریبی دوست شنزو آبے کی سیاسی ساتھی سمجھی جاتی ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں 550 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پیکیج پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں امریکی سویابین، قدرتی گیس، اور گاڑیوں کی خریداری کے علاوہ جہاز سازی کے شعبے میں تعاون شامل ہے۔

ٹرمپ نے ملاقات کے دوران تاکائچی سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ایک جاندار مصافحہ ہے۔ آپ جاپان کی بہترین وزیرِاعظموں میں سے ایک ہوں گی۔ آپ کو پہلی خاتون وزیرِاعظم بننے پر مبارکباد دیتا ہوں، یہ بہت بڑی بات ہے۔”
ملاقات کے موقع پر تاکائچی نے ٹرمپ کو مرحوم شنزو آبے کا گالف پٹر، جاپانی گالف اسٹار ہیدیکی ماتسویاما کے دستخط شدہ بیگ اور سنہری گالف بال بطور تحفہ پیش کیا۔
اہم معدنیات پر تاریخی معاہدہ
دونوں ممالک کے درمیان اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں کی فراہمی سے متعلق ایک نیا معاہدہ بھی طے پایا، جس کا مقصد ان وسائل کے حصول میں چین پر انحصار کم کرنا ہے۔ یہ معاہدہ اگلے 6 ماہ میں مشترکہ منصوبوں کی نشاندہی، میگنیٹس اور بیٹریوں کی تیاری، اور اہم معدنی ذخائر کے قیام سے متعلق اقدامات پر مشتمل ہے۔
تاکائچی نے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے جی ڈی پی کے 2 فیصد تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا تاکہ چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے مقابلے میں جاپان اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنا سکے۔
ٹرمپ نے جاپان کی جانب سے امریکی دفاعی ساز و سامان کی خریداری کو بھی سراہا، جب کہ تاکائچی نے ٹرمپ کے کردار کو کمبوڈیا، تھائی لینڈ، اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے معاہدوں کے لیے “غیر معمولی” قرار دیا۔
شمالی کوریا کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات
بعد ازاں ٹرمپ نے اکاساکا پیلس میں دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد شمالی کوریا کے ہاتھوں اغوا ہونے والے جاپانی شہریوں کے خاندانوں سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ان خاندانوں کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے۔
ٹرمپ آج جنوبی کوریا روانہ ہوں گے، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے متوقع ہے، تاکہ دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں کمی لانے پر بات چیت کی جا سکے۔
