فرانس کی خاتونِ اول بریجیت میکرون کے خلاف سوشل میڈیا پر جنسی نوعیت کی جھوٹی اور توہین آمیز مہم چلانے کے الزام میں 10 افراد پیرس کی عدالت میں پیش کی گئے۔
ان افراد پر الزام ہے کہ وہ برسوں تک ایک بے بنیاد افواہ کو پھیلاتے رہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ بریجیت میکرون پیدائش کے وقت مرد تھیں۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب بریجیت میکرون اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے جولائی کے آخر میں امریکہ میں ایک ہتکِ عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔
دونوں نے امریکی دائیں بازو کی میڈیا شخصیات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے یہ الزام پھیلایا تھا۔
Brigitte Macron – The French President’s Emmanuel Macron’s Wife – allegedly being a MAN is now going Mainstream in France.
Brigitte was 40years old when she met Macron who was just 15 at the time – if that sounds like grooming, it’s probably because it is grooming.
It’s one big… pic.twitter.com/e92MgyjnIl
— Concerned Citizen (@BGatesIsaPyscho) February 2, 2025
پراسیکیوشن کے مطابق 8 مردوں اور 2 خواتین پر مشتمل ملزمان کی عمریں 41 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔ اگر جرم ثابت ہوا تو انہیں 2 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
جنس تبدیل کرنیکی جھوٹی کہانی اور سوشل میڈیا مہم
پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ملزمان نے آن لائن پلیٹ فارمز پر بریجیت میکرون کے جنس اور ازدواجی تعلقات کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے۔ کچھ نے ان کے شوہر سے عمر کے فرق کو “غیر اخلاقی تعلق” سے تعبیر کیا۔
یہ افواہیں 2017 میں میکرون کے انتخاب کے فوراً بعد ابھریں اور دائیں بازو اور سازشی نظریات کے حامی حلقوں نے انہیں مزید ہوا دی۔
You can tell by the shock and horror on Macrons face when he saw the cameras that they were not playing around…
Brigitte appears to be a sexual predator and domestic abuser. pic.twitter.com/og7bkWy948
— Apple Lamps (@lamps_apple) May 26, 2025
ملزمان میں ایک مشہور پبلسٹسٹ اوریلیئن پوئر سون-اٹلین بھی شامل ہے، جو سوشل میڈیا پر “زوی ساگن” کے نام سے سرگرم ہے۔
ایک اور ملزمہ ڈیلفین جے (51)، جو خود کو روحانی پیشوا کہتی ہیں، نے 2021 میں اپنے یوٹیوب چینل پر 4 گھنٹے کا انٹرویو نشر کیا جس میں بریجیت میکرون کے بارے میں یہی دعویٰ دہرایا گیا۔
بریجیت میکرون نے 2024 میں ان کے خلاف مقدمہ جیتا تھا، تاہم بعد میں یہ فیصلہ اپیل میں کالعدم قرار دیا گیا۔ معاملہ اب فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
امریکہ میں مقدمہ
صدر میکرون اور خاتونِ اول نے جولائی میں امریکی قدامت پسند پوڈکاسٹر کینڈیس اووینز کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا، جنہوں نے “Becoming Brigitte” کے عنوان سے ایک ویڈیو سیریز بنائی تھی۔
فرانسیسی جوڑے کے وکیل کا کہنا ہے کہ عدالت میں “سائنسی شواہد” اور تصاویر پیش کی جائیں گی تاکہ ثابت ہو سکے کہ بریجیت میکرون کے خلاف تمام دعوے جھوٹے ہیں۔
پراسیکیوشن کے مطابق پیرس میں زیرِ سماعت مقدمے کے کئی ملزمان نے انہی ویڈیوز اور پوسٹس کو شیئر کیا تھا۔
ایک شخص نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ “دو ہزار افراد آمیاں (میکرون کے آبائی شہر) میں گھر گھر جا کر ‘بریجیت معاملے’ کی حقیقت جانچنے کے لیے تیار ہیں۔”
