بلڈ پریشر ایک جان لیوا مرض ہے۔ جسے خاموش قاتل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بلڈ پریشر کی دوائیں لینے کے دوران کھانے پینے میں بھی پرہیز ضروری ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق بلڈ پریشر کی دوا کے ساتھ چند خاص غذائیں بھی ایسے ہیں جن کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ دوا کے اثرات ذائل کر سکتی ہیں۔
چکوتر

چکوتر میں ایک قدرتی مرکب ہوتا ہے جو ایسے انزائم کو بلاک کر دیتا ہے۔ جو جسم میں بہت سے دواؤں کے اثرات کو پھیلاتا ہے۔ اور جب یہ انزائم جب رک جائے تو دوا کے اثرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اور یہ ہمارے جسم کے لیے مضر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چکوترا اور نارنجی کے جوس جسم میں دواؤں کے جذب کرنے کے عمل کو روکتا ہے جس سے دوائیں کم مؤثر ہو جاتی ہیں۔
پرانا پنیر

بلڈ پریشر کے مریضوں کے دوائیں استعمال کرنے کے دوران پرانا پنیر کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ یہ بعض دواؤں کے ساتھ مل کر بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ کر سکتا ہے۔
اس حوالے سے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پرانا پنیر بلڈ پریشر کی مخصوص دوا کے استعمال کے دوران نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے بلڈ پریشر کی دواؤں کے استعمال کے دوران پرانا پنیر کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
زیادہ نمک والی غذائیں

ماہرین ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو نمک کے استعمال اور جن غذاؤں میں زیادہ مقدار میں نمک استعمال ہوا ہو۔ انہیں کھانے سے روکتے ہیں۔ روزانہ نمک کی مقدار 1500 ملی گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
زیادہ نمک والی غذائیں بلڈ پریشر کی دواؤں کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
ماہرین صحت کہتے ہیں کہ زیادہ نمک کا استعمال جسم میں پانی روک لیتا ہے۔ جس سے بلڈ پریشر دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔
اس لیے دواؤں کے استعمال کے دوران اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں کہ کون سے غذا آپ کے لیے صحت بخش ہیں۔
