دنیا بھر کی ایئر لائنز میں جہاز پر سوار ہونے کے لیے راستہ ہمیشہ بائیں جانب سے ہی رکھا جاتا ہے۔ اور دایاں حصہ کبھی مسافروں کو جہاز پر چڑھانے کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔
جہاز پر مسافروں کو ہمیشہ دائیں جانب سے ہی کیوں چڑھایا جاتا ہے؟ اس کے پیچھے صرف روایت ہی نہیں چھپی بلکہ کچھ دلچسپ اور سائنسی وجوہات بھی پوشیدہ ہیں۔
ہوا بازی کے ابتدائی دور میں پائلٹوں کو بہت سے اصول سمندری جہازوں سے ہی اپنائے۔ جہاں مسافروں کا جہاز پر سوار ہونے کا راستہ ہمیشہ بائیں طرف ہوتا تھا۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہوائی جہازوں پر بھی بائیں جانب سے چڑھنے کا راستہ رکھا گیا۔
جہاز کے دائیں جانب زیادہ تر فیول ٹینک، کارگو دروازے اور تکنیکی آلات نصب ہوتے ہیں۔ جبکہ بائیں جانب سے سوار ہونے سے مسافروں کو ان حساس حصوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ حادثے یا خطرے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں جب ایک ہی جانب سے بورڈنگ کا اصول طے کر لیا گیا تو ایئرپورٹ عملے کے لیے کام آسان ہو گیا۔ سامان لوڈ کرنا، ایندھن بھروانا اور دیکھ بھال کے کام ایک ہی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ جبکہ مسافر دوسری جانب سے داخل ہوتے ہیں۔ اس سے وقت کی بچت اور کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
جہازوں کے ابتدائی زمانے میں پائلٹ ہمیشہ کاک پٹ کے بائیں طرف بیٹھتے تھے۔ لہٰذا بائیں جانب سے بورڈنگ ہونے سے پائلٹ آسانی سے مسافروں کی آمدورفت پر نظر رکھ سکتے تھے۔ لہذا آج بھی یہی ترتیب عملے کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پرندے مخصوص اقسام اور رنگوں کی گاڑیاں بیٹ کیلئے منتخب کرتے ہیں، تحقیق میں انکشاف
جب ایک اصول عالمی سطح پر اپنایا گیا تو پھر اسے تبدیل کرنا غیر ضروری سمجھا گیا۔ اب یہ طریقہ کار ایئرلائنز، گراؤنڈ اسٹاف اور مسافروں کے لیے ایک معیاری نظام بن چکا ہے۔ اس روایت کو برقرار رکھنا سیکیورٹی اور کارکردگی دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔
