ملک میں مہنگائی(inflation) کی نئی لہر نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
تازہ ترین مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق، پریمیم گھی فی کلو 10 روپے اور کوکنگ آئل فی لیٹر 10 روپے مزید مہنگا ہوگیا ہے، جس کے بعد فی لیٹر یا فی کلو قیمت582 روپےتک پہنچ گئی ہے۔ دوسری کیٹیگری کے برانڈز 540 روپے فی لیٹر یا کلو میں فروخت ہو رہے ہیں۔
دکانداروں کے مطابق قیمتوں میں اضافہ سپلائی چین کے مسائل اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے باعث ہوا ہے، جب کہ عالمی منڈی میں تیل اور اجناس کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نے ملکی مہنگائی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگر درآمدی اخراجات میں کمی نہ آئی تو آنے والے ہفتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
دوسری طرف شہریوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام کے لیے فوری اقدامات کرے۔
مزید پڑھیں:سیلاب کے باجود مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر، شرح نمو 3.5 فیصد رہے گی، وزیر خزانہ
