جاپان میں ایک 38 سالہ شخص تاکویا ہیگاشیموتو کو دو سال تک فوڈ ڈیلیوری ایپ کو دھوکہ دے کر مفت کھانے حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نے ایپ کے سسٹم کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریباً 1000 کھانے مفت میں حاصل کئے۔
گھٹنے کے درد کے لیے کون سی ورزشیں مؤثر؟ نئی تحقیق
پولیس کے مطابق ملزم نے فوڈ ڈیلیوری ایپ پر 124 جعلی اکاؤنٹس بنائے، وہ پری پیڈ کارڈز سے ادائیگی کرتا، پھر چند دن بعد ممبر شپ منسوخ کر دیتا، تاکہ کمپنی اس کی سرگرمی کو ٹریک نہ کر سکے۔
وہ اکثر نون کانٹیکٹ ڈلیوری کا آپشن استعمال کرتا تھا، اور پھر یہ دعویٰ کرتا کہ کھانا موصول نہیں ہوا اور کمپنی اس دعوے پر ریفنڈ جاری کر دیتی تھی۔ صرف ایک موقع پر، اس نے تقریباً 105 امریکی ڈالر کا ریفنڈ لیا، یہ کہہ کر کہ آئس کریم، چکن اسٹکس اور دیگر آئٹمز نہیں پہنچے۔
پولیس کے مطابق اس فراڈ سے فوڈ ڈیلیوری کمپنی کو تقریباً 24 ہزار امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ گرفتاری کے بعد ملزم نے اعتراف کیا کہ شروع میں بس ایک تجربہ کیا تھا، مگر جب مفت کھانے ملنے لگے تو رکنا مشکل ہو گیا۔
چاند، مریخ اور عطارد آج شام ایک قطار میں، منظر بغیر دوربین دکھائی دے گا
واقعے کے بعد کمپنی نے اپنے سسٹم میں نیا سیکیورٹی الارم متعارف کرایا، تاکہ آئندہ ایسی جعلسازی کو روکا جا سکے۔
