بھارت میں مسلمانوں کیخلاف تشدد کی نئی لہر، سیکولرازم کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ مودی اور آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسیوں نے بھارت کو انتہا پسندی کا گڑھ بنا دیا۔
مودی راج میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی جاری ہے اور اقلیتوں کے مذہبی اور اقتصادی حقوق نشانے پر ہیں، وزیر اعلی اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے مسلم مخالف اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ، مسلمانوں کے کھانے اور مذہبی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی پولیس کا نام نہاد پراپیگنڈا، پنجاب پولیس کا منہ توڑ جواب
یوگی آدتیہ ناتھ نے گورکھپور میں آر ایس ایس کی صد سالہ تقریب جشن سے نفرت انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حلال مصنوعات کے منافع کو مذہب کی تبدیلی، جِہاد اور دہشتگرد سرگرمیوں میں استعمال کیا جا تا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اسلام نے بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور آبادی کا توازن بدلنے کی کوشش کی۔ ہمارے بزرگوں نے سیاسی اسلام کے خلاف بڑی جدوجہد کی، مگر تاریخ کا یہ سچ چھپایا گیا ہے۔ مذہب اسلام آج بھی بھارت کے امن اور ہم آہنگی کے دشمن کے طور پر سرگرم ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی صدر کا ہیلی کاپٹر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گیا، دھکا لگا کر نکالنے کی ویڈیو وائرل
دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کے بعد بھارت میں تشدد کی نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے، جہاں رامپور ، بہار میں انتہاپسند ہندوتوا ہجوم نے ایک مسجد پر حملہ کیا ہے اور قرآن پاک کی بیحرمتی کی ہے۔ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ماضی میں بھی مسلمانوں کے خلاف متنازع بیانات اور اقدامات کیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یوگی حکومت کی بلڈوزر پالیسی کے تحت 2017ء سے اب تک ہزاروں مسلم خاندانوں کے مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں۔مودی راج میں مذہبی انتہا پسندی اور مسلم مخالف پالیسیوں نے بھارتی سیکولر ازم کے دعوے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
