سعودی عرب میں مختلف وزارتوں اور اداروں کے 17 سرکاری اہلکاروں کو بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔
سعودی عرب کے احتساب و انسداد بدعنوانی اتھارٹی (نزاہہ) کے مطابق وزارت صنعت و معدنی وسائل کے ایک اہلکار نے ایک غیر ملکی سرمایہ کار کی کمپنی کو غیر قانونی طور پر کرشر لائسنس جاری کرنے کے عوض مبینہ طور پر 16 لاکھ سعودی ریال بطور رشوت لئے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں کم عمر بچوں کو گاڑی میں اکیلا چھوڑنے پر 500 ریال جرمانے کا اعلان
ایک اور سعودی شہری کو 85 ہزار ریال وصول کرنے پر گرفتار کیا گیا جو مجموعی طور پر 1 لاکھ 10 ہزار ریال کی طے شدہ رشوت کا حصہ تھا، تاکہ ایسی زرعی زمین کے خلاف ڈمولیشن آرڈر منسوخ کرایا جاسکے جس کوئی ملکیتی دستاویز موجود نہیں تھی۔
اس کے علاوہ دو بلدیاتی اہلکاروں کو رشوت لینے اور ایک گورنریٹ میونسپلٹی کے ملازم کو تجارتی ادارے کو غیر قانونی ٹھیکہ دینے بدلے 1 لاکھ 95 ہزار ریال رشوت لینے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔
مزید پڑھیں: ضوابط کی خلاف ورزی ، سعودی عرب میں 10 ریکروٹنگ ایجنسیاں سیل ، 27 کے لائسنس منسوخ
نزاہہ کے مطابق وزارتِ دفاع کے ایک افسر کو خواتین سے ملازمت دلانے کے وعدے پر رقم وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی کے ایک اہلکار کو ائیرپورٹ پر متعدد کسٹم خلاف ورزیوں پرحراست میں لیا گیا۔
