ایبٹ آباد: خیبر پختونخوا کے علاقے ایبٹ آباد میں خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے دوران میڈیکل ٹیسٹ میں اکثریت مرد نکلے۔
تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد میں خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے لیے 39 افراد کی جانب سے درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ جب درخواستیں جمع کرانے والوں کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا۔ تو ان میں سے صرف 5 کو ہی خواجہ سرا قرار دیا گیا۔ باقی کے 34 افراد مرد نکلے۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ٹیسٹ رجسٹریشن کے قواعد و ضوابط کے مطابق کیے گئے۔ کیونکہ صرف مستند خواجہ سرا کمیونٹی کے افراد کو ہی سرکاری ریکارڈ میں شامل کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس پیشرفت سے ایک طرف اصل کمیونٹی کے تحفظ اور حقوق کے لیے مثبت سمت متعین ہو سکتی ہے۔ تو دوسری جانب جعلی اندراج کی روک تھام بھی ممکن ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پاسپورٹ کا ڈیزائن مکمل طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق طبی معائنے کے اس غیرمعمولی نتیجے نے متعلقہ اداروں کو رجسٹریشن کے عمل کی شفافیت اور اعداد و شمار کی درستی پر ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
