انسداد دہشتگردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کے تمام ملزمان کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی، بانی پی ٹی آئی کی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی۔ تین گواہان کی عدم پیشی پر عدالت نے سماعت 5 نومبر تک ملتوی کر دی۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے اس حوالے سے عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس کیس میں واٹس ایپ لنک پر گواہان کے بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔ دوبارہ جیل ٹرائل اوپن کورٹ طلب کیا جائے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی سابق خوشدامن اور جمائما کی والدہ اینابیل گولڈ اسمتھ انتقال کر گئیں
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جن گواہان کے بیان ہم نے سنے نہیں، ان پر جرح نہیں ہو سکتی۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ان گواہان کو دوبارہ طلب کرکے ازسر نو بیان ریکارڈ کیے جائیں۔
عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کر دیئے اور آئندہ سماعت 5 نومبر کو درخواست پر فریقین کے وکلا کو دلائل پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
دریں اثناء اے ٹی سی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے کہا کہ آج جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت تھی ہم مکمل تیاری سے عدالت پہنچے ، ہمیں امید تھی آج کیس کی سماعت ہو گی مگر گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث سماعت ملتوی ہوئی۔
مزید پڑھیں:جی ایچ کیو حملہ کیس، التوا مانگنا ہو تو آئندہ اس عدالت میں نہ آنا، سپریم کورٹ
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے 13 گواہوں کے بیانات بانی کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کئے گئے ہیں اسلئے تمام 13 گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کئے جائیں۔
