چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر(barrister gohar)کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے نہ دی گئی تو 8 سے 10 ارکان پر مشتمل کابینہ تشکیل دینگے،امید تو یہی ہےہائیکورٹ کی اجازت سے وزیر اعلیٰ کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوجائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ملاقات نہیں ہوتی تو صوبے کو کابینہ کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا،مجھے نہیں معلوم خیبر پختونخوا حکومت کو کتنی گاڑیاں دی گئی تھیں ،معلوم ہوا ہے جو گاڑیاں دی گئی تھیں وہ یو این کے استعمال میں تھیں۔
تحریک انصاف ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے،دہشتگردی کیخلاف نیشنل ایکشن پلان پر عمل ضروری ہے،نیشنل ایکشن پلان میں درج ہے دہشتگردی کے خلاف صوبوں کی استعداد بڑھائی جائے گی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کو بہترین گاڑیاں فراہم کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے،دہشتگردی کے مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہم سے ہے ،پاکستان کیخلاف افغانستان سمیت کوئی بھی زمین استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
محمود خان اچکزئی کو ہم نے اپوزیشن لیڈر نامزد کیا ہے ،74اراکین اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کی درخواست پر دستخط کئے ،این اے 18 ہری پور پر ہمیں اسٹے نہیں ملا ،بانی نے وہاں ضمنی انتخاب لڑنے کی اجازت دی ہے،عمر ایوب کی اہلیہ کے کاغذات جمع ہوچکے ہیں۔
مزید پڑھیں :کے پی میں بزدار طرز کا سہیل آفریدی سوچ سمجھ کر لگایا گیا، طلال چودھری
غیر منتخب افراد کو کابینہ میں شامل کرنے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مزاحمت کی دھمکی
