روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے سیزفائر کو خطے میں امن کے قیام کیلئے اہم قدم قرار دیا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک بیان میں کہا کہ ہم کابل اور اسلام آباد کے درمیان قطری اور ترک حکام کی ثالثی سے طے پانے والے دوطرفہ سیزفائر معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا بات چیت کے ذریعے اختلافات حل کرنے کا عزم خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
ماریا زاخارووا نے مزید کہا کہ ہم کابل اور اسلام آباد پر زور دیتے ہیں کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیں، بالخصوص دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں۔
💬 #Zakharova: We welcome the agreement between Kabul and Islamabad on a mutual ceasefire along the Afghan-Pakistani border.
We call on the two countries to further expand their cooperation, including in the field of counterterrorism.https://t.co/IUsQ617Bsc pic.twitter.com/4WK14XSLLA
— MFA Russia 🇷🇺 (@mfa_russia) October 20, 2025
واضح رہے کہ اتوار کے روز دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغانستان نے فوری سیزفائر پر اتفاق کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں سرحدی جھڑپوں کے باعث متعدد ہلاکتیں ہو چکی تھیں۔
پاکستان اور افغانسان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 25 اکتوبر کو ترکیہ کے شہر استنبول میں ہوگا۔
معاہدے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے دہشتگردی کا سلسلہ فی الفور بند ہو گا۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کی بینادی وجہ ہی یہی تھی کہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کیخلاف کاروائیاں کرتے تھے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین سیز فائر کا معاہدہ طے پاگیا۔ پاکستان کی سرزمین پہ افغانستان سے دھشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ھوگا۔ دونوں ھمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے الحمدوللہ
25اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود میں ملاقات ھو گی۔ اور تفصیلی معاملات بات ھوگی۔… pic.twitter.com/OKNbRuXEPU— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 18, 2025
سرحدوں پر حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور نہ صرف افغانی فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا بلکہ صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والے خارجی دہشتگردوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔
کشیدگی کے باعث 12 اکتوبر سے دونوں ممالک کے درمیان تمام سرحدوں پر دوطرفہ تجارت معطل ہے۔
بارڈرز بند ہونے کے باعث اربوں روپے مالیت کی درآمدات اور برآمدات سمیت ٹرانزٹ ٹریڈ بھی بند ہو گئی ہے جبکہ سرحد کے دونوں طرف ہزاروں مال بردار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔
تاہم معاہدہ طے پا جانے کے بعد اور افغان حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین پر کوئی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات جلد بحال ہونے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔
