پاکستانی اداکار عثمان خالد بٹ نے سوشل میڈیا پر بیوی کو صرف گھریلو ملازمہ کہنے والے صارف کو سخت تنقید کا نشانہ بنا دیا۔
بیوی صرف گھریلو کام کے لیے نہیں, عثمان خالد بٹ کی مردانہ سوچ پر تنقید
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے ڈرامے کے ایک منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی بیوی صرف غیر معاوضہ گھریلو ملازمہ ہوتی ہے، جس کی ذمہ داری صرف شوہر کے جوتے اور جرابیں صاف کرنا اور اس کے لیے ٹائی باندھنا ہے۔
عدنان سے کین ڈول کیوں بنے؟ انفلوئنسر نے حیران کن کہانی سنا دی
عثمان خالد بٹ نے اس موقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ایک طنزیہ انداز میں 26 نکاتی فہرست پیش کی، جس میں انہوں نے کہا کہ بیوی وہ لڑکی نہیں ہونی چاہیے جو سالن کے مستقل امتحان پاس نہ کر سکے، جو گاڑی کی چابیاں چھپانے والے جن کو نکالنے سے انکار کرے اور جو یہ سمجھے کہ مرد، خدا نہ کرے، واشنگ مشین چلا سکتا ہے۔
عثمان خالد بٹ کے اس طنزیہ جواب نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی اور ہزاروں لوگوں نے ان کی حمایت کی۔ اداکار نے زور دیا کہ اس قسم کی مردانہ سوچ معاشرتی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے اور گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔
کھل نائیک کا کردار خاص طور پر سنجے دت کے لیے لکھا گیا تھا ، ڈائریکٹر
ماہرین کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 فیصد خواتین نے اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت گھریلو تشدد کا سامنا کیا ہے، اور ایسے خیالات نہ صرف خواتین کے حقوق کی پامالی کا سبب بنتے ہیں بلکہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ بھی ہیں۔
