امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے آسٹریلوی وزیراعظم اینتھونی البنیزے کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کیا جہاں دونوں رہنماؤں نے تجارتی و دفاعی تعاون خاص طور پرنایاب معدنیات، فوجی بحری آلات اور AUKUS کے تحت نیوکلیئر پاورڈ آبدوزوں جیسے معاملات پر بات چیت کی اور کلیدی معاہدوں پردستخط کیے جانے کی تصدیق کی۔
یہ ملاقات اس پس منظرمیں ہوئی ہے کہ مغربی ممالک چین کے نایاب زمینی وسائل پربڑھتے کنٹرول سے متحرک ہو کر متبادل سپلائی چینزاوردفاعی اتحاد کومضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک تجارت، معدنی وسائل بالخصوص ریئر ارتھ عناصراوردفاعی صنعت میں گہرے معاہدے کریں گے اور آبدوزی اورفوجی سازوسامان پرتعاون کوتیزکیا جائے گا، البنیزے نے بھی خطے میں سلامتی اور سپلائی چین کی خود کفالت کوایک اہم موضوع قراردیا۔
اسی دوران ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ جلد چین کے صدرشی جن پنگ سے جنوبی کوریا میں ملاقات کریں گے، یہ ملاقات تجارتی تناؤاورنایاب معدنیات سے متعلق مسائل کوحل کرنے کی کوششوں میں اہم مرحلہ سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی انتظامیہ نے چین کے خلاف ممکنہ ٹیرفز اوربرآمدی کنٹرولزکی دھمکی بھی دی تھی، جس میں اضافی کساد بازاری کے خلاف دباؤ کی سازشیں شامل ہیں کئی رپورٹس نے اکتوبرمیں صدرکے 100 فیصد تک اضافی ٹیرف کے امکانی اقدامات کی خبروں کا تذکرہ کیا۔
ٹرمپ کے جوہری تنصیبات تباہ کرنے کے دعوے محض خواب ہیں، ایرانی سپریم لیڈر
خبر نگاروں اورسفارتی حلقوں کی نظر یہ ہے کہ آئندہ دنوں میں دستخط شدہ معاہدوں کی تفصیلات، ٹیرف پالیسی کا حتمی اعلان اورشی جن پنگ سے ملاقات کے نتائج خطے اورعالمی تجارت دونوں پرگہرا اثرڈال سکتے ہیں۔
