اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصل مسجد میں نامناسب لباس میں داخلے اور ویڈیوز بنانے پر پابندی کی درخواست پر نوٹسز جاری کر دیئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک شہری کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ہم اس حوالے سے کس کو ڈائریکشن دیں؟ وکیل نے کہا کہ انچارج فیصل مسجد سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز سے مشاہدے میں آیا کہ کچھ لوگ مسجد کے احاطے میں غیر شائستہ ویڈیوز بناتے ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق مسجد کے احاطے میں نامناسب لباس میں ویڈیوز بنانا مسجد کے تقدس کیخلاف ہیں، مسجد کی بیحرمتی مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے، مسجد کے انچارج، ڈی سی اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے کو تحریری شکایات بھجوائیں، کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وزیر مذہبی امور، صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور آئی جی اسلام آباد کو بھی تحریری شکایات بھجوائی جا چکی ہیں، عدالت نامناسب لباس میں مسجد میں داخلے اور رقص و موسیقی کے ساتھ وڈیوز بنانے پر پابندی عائد کرے۔
ٹک ٹاک بناتے افغان باشندہ فیصل مسجد کی پہلی منزل سے گر کر جاں بحق
بعد ازاں عدالت نے انچارج فیصل مسجد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے ، وزارت مذہبی امور، صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور آئی جی پولیس اسلام آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابات طلب کر لیے۔
