امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے روس کی تیل کی برآمد بند نہ کی اسے “بھاری ٹیرف” کا سامنا جاری رہے گا۔
تاہم صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کر دے گا۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایئر فورس ون میں کہا کہ میں نے وزیر اعظم مودی سے بات کی ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ روسی تیل نہیں خریدیں گے۔
ٹرمپ نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ مودی نے انہیں فون پر یقین دہانی کرائی کہ بھارت روسی تیل کی درآمد بند کر دے گا۔
لیکن بھارتی وزارت خارجہ نے ایسے کسی رابطے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کا سب سے اہم مقصد اپنے صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے۔
جب ٹرمپ سے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پر سوال کیا گیا کہ انہیں کسی ایسی گفتگو کا علم نہیں، تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا کہنا چاہتے ہیں، تو پھر انہیں بھاری محصولات ادا کرتے رہنا ہوگا، اور وہ یہ نہیں چاہتے۔
روس سے تیل کی خریداری امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی مصنوعات پر جو 50 فیصد تک محصولات عائد کیے ہیں، ان میں سے نصف روسی تیل کی خریداری کے ردعمل میں لگائے گئے ہیں۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ روسی تیل کی آمدنی یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے روسی فوجی اقدامات کو مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد بھارت دنیا میں سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے جو روسی تیل رعایتی نرخوں پر خرید رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے جمعرات کو کہا کہ بھارت نے روسی تیل کی خریداری نصف کر دی ہے۔
President Donald Trump has imposed 25% tariff on India and this is bearish for Nifty
Nifty : pic.twitter.com/u7IVpyP4NG
— Sumit Behal (@sumitkbehal) July 31, 2025
لیکن بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسی کوئی واضح کمی نظر نہیں آئی۔ ان ذرائع کے مطابق نومبر اور دسمبر کے لیے پہلے ہی خریداری کے آرڈرز دیے جا چکے ہیں، لہٰذا کسی ممکنہ کمی کے اثرات دسمبر یا جنوری کی درآمدات میں نظر آئیں گے۔
کموڈٹی ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی Kpler کے تخمینوں کے مطابق، بھارت کی روسی تیل کی درآمدات اس ماہ 20 فیصد اضافے کے ساتھ 1.9 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ سکتی ہیں، کیونکہ روس نے یوکرینی حملوں کے بعد اپنی برآمدات میں اضافہ کر دیا ہے۔
