شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کا خودکش حملہ ناکام بنا دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔
ذرائع کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد 3 مزید خارجیوں نے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں حملہ آوروں کو کیمپ کے باہر ہی جہنم واصل کر دیا۔
واقعے کے دوران سیکیورٹی فورسز کو کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران افغان طالبان کے حمایت یافتہ 88 خارجی ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت آخری خارجی کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع کے لیے ہر محاذ پر ڈٹی رہیں گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاک فوج نے ضلع مہمند میں دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے فتنۂ خوارج کے 45 سے 50 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
دوسری جانب آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ 13 سے 15 اکتوبر کے دوران خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ 34 خارجی دہشت گرد مارے گئے۔
میر علی میں خوارجیوں کا حملہ ناکام بنانے پر ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
انہوں نے 4 خوارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بروقت ردِعمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے نہ صرف بڑے جانی نقصان کو روکا بلکہ دشمن کو واضح پیغام بھی دیا کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی قسم کی دہشت گردی یا دراندازی کو ہر حال میں ناکام بنایا جائے گا۔
