برلن: جرمنی میں دنیا کے سب سے بدبودار پھول نما نایاب پودے کو چوری کر لیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دنیا کے سب سے بدبودار پھول نما نایاب پودے کے چوری ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ پولیس نے پودے کی تلاش شروع کر دی۔
چوری ہونے والا پودا ایک ایسا بدبودار پودا ہے۔ کہ جب اس کا پھول کھلتا ہے تو اس کی بدبو سارے شہر میں پھیل جاتی ہے۔
گزشتہ دنوں جرمنی میں رومبر گارڈن کے عملے پر معمول کی جانچ پڑتال کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ان کا قیمتی پودا ’’ڈیوڈ‘‘ جو تقریباً 60 پاؤنڈ وزنی ہے اپنی جگہ سے غائب ہوگیا ہے۔
پودے کی گمشدگی کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس متحرک ہو گئی۔ اور چوروں کی تلاش شروع کر دی۔
اس پودے کے سائز کی بات کی جائے تو اس کا قد کئی فٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور دیکھنے میں اس کا پورا پودا ہی اس کا پھول ہے۔ اس کے کئی فٹ پر مشتمل سائز اور ناگوار بدبو کے باعث کچھ لوگوں نے اس کو پھول کے بجائے محض پودا قرار دینے پر زور دیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعی ایک پھول ہے کیونکہ یہ بیج سے پودے پر کلی بننے اور پھر یہ پھوٹنے کے مراحل سے بھی گزرتا ہے۔ اور اس کا سائنسی نام امورفوفالیس ٹائٹینیئم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی تعداد 25 فیصد تک کم
یہ نایاب پودا اپنی ناقابلِ برداشت بدبو کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ اسے ٹائٹن ایرم یا لاش کا پھول بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پھول ہر چند سال بعد چند دن کے لیے ظاہر ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس کے تقریباً ایک ہزار پودے باقی رہ گئے ہیں۔ اور اس پودے کا پھول صرف 24 گھنٹے تک کِھلا رہتا ہے۔
