قدیم چینی پورسلین (مٹی) تکیے آج بھی اپنے منفرد ڈیزائن اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہیں، اگرچہ یہ تکیے سخت اور غیر آرام دہ سمجھے جاتے ہیں، مگر صحت کے لیے کئی فوائد رکھتے ہیں۔
تاریخی شواہد کے مطابق سب سے قدیم پورسلین تکیہ سُوئی خاندان (581-618 عیسوی) کے افسر ژانگ شینگ کی قبر سے ملا، پورسلین تکیوں کا استعمال ٹانگ خاندان میں شروع ہوا، سونگ خاندان میں عروج پر پہنچا، اور منگ و چھنگ خاندانوں میں کم ہوتا گیا۔
ناپید پرندے کا پر مہنگے داموں فروخت، وزن صرف 9 گرام
قدیم چینی شاعری اور ادب کے مطابق سخت اور ٹھنڈے پورسلین تکیے گرمیوں میں جسم کو ٹھنڈک دیتے اور نیند کے معیار کو بہتر بناتے تھے، یانگ شینگ یعنی خود کی پرورش کے مطابق سر کو مناسب بلندی پر رکھنا اور پہلو پر سونا صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا تھا۔
پورسلین کے تکیے بنانے کے لیے خاص قسم کی مٹی استعمال کی جاتی ہے جسے کاولن کہا جاتا ہے, مٹی کو صاف کیا جاتا ہے اور پانی کے ساتھ ملا کر ہموار کیا جاتا ہے تاکہ بلبلے اور غیر یکساں حصے ختم ہو جائیں، ہموار شدہ مٹی کو مولڈ میں ڈالا جاتا ہے یا ہاتھ سے تکیے کی شکل دی جاتی ہے، اکثر سر کے لیے مخصوص ڈیزائن بنایا جاتا ہے
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ تکیے آرام کے جدید معیار پر پورا نہیں اترتے، مگر یہ جسمانی توانائی کے بہاؤ کو متوازن کرنے اور صحت کے دیگر فوائد فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
