پشاور ہائیکورٹ نے نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ میرے پاس انتظامی اختیارات میں آرٹیکل 255 کے تحت درخواست آئی ہے، جب گورنر نے استعفیٰ موصول کر لیا تو وزیراعلیٰ مستعفی تصور ہو گا۔ علی امین مستعفی ہو چکے ہیں ، گورنر کے خط سے فرق نہیں پڑتا۔
پشاورہائیکورٹ نے نو منتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری سے متعلق درخواست پر سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اوروکیل سلمان اکرم راجہ پشاورہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے سوال کیا کہ کیا گورنر خیبر پختونخوا پشاور پہنچ گئے ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر سے میں نے بات کی ہے، گورنر کے مطابق وہ شہر سے باہر ہیں ، کل تک آئیں گے۔
نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا انتخاب پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا گورنر نے حلف برداری لینے سے متعلق کوئی اظہار کیا ؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ گورنر نے استعفیٰ پر اعتراض سے متعلق علی امین کو پیشی کا کہا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ بات پیشی کی نہیں، وزیراعلیٰ منتخب ہو گیا ، حلف برداری گورنر نے کرنی ہے۔
جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ 90 نمائندوں کے ووٹ سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں، گورنر کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا تھا۔
وکیل نے کہا کہ نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری تک پرانا ہی دفتر چلائے گا، عدالت نے کہا کہ نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری تک پرانا اس وقت دفتر چلا سکتا ہے جب الیکشن نہیں ہو گا،یہاں تو الیکشن ہوا ہے، دیگر جماعتوں نے بھی کاغذات نامزدگی بھی جمع کیے ، وکیل نے کہا کہ کل گورنر جب آئیں گے تو ہو سکتا ہے وہ استعفیٰ منظور کریں، اور حلف لیں، اگر جلدی ہے تو جہاز بھیجیں وہ رات کو آ جائیں گے۔
نئےوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بیرون ملک سفرنہیں کرسکتے
چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا گورنر پبلک فلائٹ سے آتا ہے؟ وکیل نے جواب دیا جی گورنر پبلک فلائٹ سے سفر کرتا ہے، بعد ازاں عدالت نے وزیراعلی سے حلف لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ نے نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے لیے گورنر خیبرپختونخوا کی دستیابی معلوم کرنے کا حکم دیا تھا۔
نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لینے کے لیے دائر درخواست پر سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی تھی ۔
عدالت نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے گورنر خیبر پختونخوا کی دستیابی معلوم کریں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل آج ایک بجے سے پہلے عدالت کو آگاہ کریں۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ درخواست اسپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر ارکان اسمبلی نے آرٹیکل 255 کے تحت دائر کی ، درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسپیکر یا کسی اور کو حلف لینے کے لیے نامزد کیا جائے۔
پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو زرتاج گل کے خلاف کارروائی سے روک دیا
حکمنامہ کے مطابق درخواست گزار وکیل کے مطابق علی امین گنڈاپور نے اپنا استعفیٰ گورنر کو بھجوایا، درخواست گزار کے مطابق سہیل آفریدی 13 اکتوبر کو وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، اپوزیشن جماعتوں کے دیگر ارکان نے بھی شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔
تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ شیڈول 12 اکتوبر کو جاری کیا گیا اور تمام امیدواروں کی جانب پڑتال کی گئی، اپوزیشن لیڈر نے الیکشن پر اعتراض کیا، اسپیکر نے اعتراض کو مسترد کردیا اور رولنگ پاس کی، گورنر خیبرپختونخوا نے حلف لینے کے لیے عدم دستیابی ظاہر کر دی ہے۔
حکم نامے کے مطابق حلف میں مزید تاخیر صوبے کو طرز حکمرانی سے روکنا ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق 255(2) کی کارروائی نہیں ہو سکتی کیونکہ گورنر پاکستان میں ہے اور وہ 15 اکتوبر کو دستیاب ہوں گے۔
