ایک تازہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گھریلو یا رشتوں میں ہونے والے جھگڑوں کی شروعات زیادہ تر مرد حضرات کی جانب سے ہوتی ہے۔ چاہے معمولی نوک جھونک ہو یا کوئی بڑا تنازع، تقریباً ہر جوڑا زندگی میں اختلاف کا سامنا ضرور کرتا ہے، مگر تحقیق کے مطابق ابتدائی غصہ اور جارحانہ ردِعمل زیادہ تر شوہر یا مرد کی جانب سے ظاہر ہوتا ہے۔
یہ تحقیق اسکاٹ لینڈ کی معروف سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں کی گئی، جس میں ماہرین نے پایا کہ مرد خواتین کے مقابلے میں زیادہ براہِ راست جارحانہ رویہ اپناتے ہیں۔ تاہم، مطالعے میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ خواتین بالکل معصوم نہیں ہوتیں ،ایک بار جب جھگڑا شروع ہو جائے تو وہ بھی بھرپور ردِعمل دیتی ہیں اور بحث میں پیچھے نہیں ہٹتیں۔
وفاقی دارالحکومت کے عوامی مقامات پر مفت وائی فائی منصوبہ دسمبر تک مکمل کرنے کا اعلان
تحقیق کے دوران 104 افراد کو ایک تجرباتی کھیل میں شریک کیا گیا جس میں وقت کے دباؤ کے تحت فیصلے کرنے تھے۔ کھیل کے مختلف مراحل میں شرکاء کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنی جیت یا ہار پر ردِعمل ظاہر کریں۔ ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ تقریباً ہر راؤنڈ میں مردوں نے خواتین کے مقابلے میں زیادہ غصہ اور جارحیت دکھائی۔
دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ دو خواتین پر مشتمل ٹیموں میں غصے کی شرح سب سے کم رہی۔ خواتین نے تنازع کو بڑھانے کے بجائے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس مرد فوری اشتعال میں آ کر ردِعمل دیتے پائے گئے، اگرچہ وقفے کے دوران ان کا غصہ جلد کم بھی ہو جاتا تھا۔
پی ٹی سی ایل نے زیرِ سمندر کیبل کی مرمت کا شیڈول جاری کردیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ بعض افراد مخصوص حالات میں زیادہ جارحانہ کیوں ہو جاتے ہیں، جبکہ دیگر لوگ وہی صورتِ حال پُرسکون انداز میں سنبھالتے ہیں۔
یہ مطالعہ معروف سائنسی جریدے “سائنٹیفک رپورٹس” (Scientific Reports)میں شائع ہوا، جسے ماہرین نے انسانی رویے اور تعلقات میں جذباتی توازن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
