پنجاب کے بعد کراچی میں بھی مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی ہے۔
مذہبی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے احتجاج کے باعث شہر کے متعدد مقامات پر ٹریفک جام اور انٹرنیٹ سروس میں جزوی تعطل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
نیو کراچی ( karachi news ) کے نالہ اسٹاپ پر کارکنوں نے احتجاج کیا، جہاں مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور شیشے توڑ دیے۔ اسی طرح نارتھ کراچی فور کے چورنگی پر بھی مظاہرین نے سڑک بلاک کردی، جس سے ٹریفک جام ہو گئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
لاہور متعدد مقامات سے بند، ایک بار پھر موٹر ویز بھی بند کر دی گئیں
پولیس کے مطابق پاور ہاؤس، انڈہ موڑ، سندھی ہوٹل اور فور کے چورنگی کے اطراف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ پولیس کی جانب سے فوری کارروائی کرتے ہوئے شیلنگ کی گئی اور ہجوم کو منتشر کردیا گیا۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ نے کہا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پا لیا ہے۔ نیو کراچی سندھی ہوٹل اور فور کے چورنگی کے اطراف ٹریفک بحال کر دی ہے جبکہ احتجاج اور شرپسندی پھیلانے والے پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
وطن عزیز میں مذہب کے نام پر مسلح جتھے بنانے، سڑکیں بند کرکے عوام کو یرغمال بنانا توھین مذھب ھے۔ دو سال غزہ میں ظلم اور خون کی ھولی کھیلی گئی کسی کو احتجاج یاد نہ آیا۔ جب وہاں جنگ بندی ھو گئی۔ تو احتجاج شروع ھو گیا۔ وقت آگیا ھے ھمارے معاشرہ کو یرغمال بنانا، مذھب کے نام پر تشدد…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 13, 2025
ڈی آئی جی ویسٹ نے کہا کہ ممکنہ احتجاج، پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ کے خدشے کے پیش نظرعلاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے اضافی نفری بھی طلب کر لی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق شہر کی مجموعی صورتحال قابو میں ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کو افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق مریدکے میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں پولیس اور رینجرز نے آپریشن کرکے جی ٹی روڈ خالی کروالی۔ دوسری جانب لاہور میں بھی امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر متعدد راستے بند کر دیے گئے، جبکہ اورنج لائن ٹرین اور میٹرو بس سروس بھی معطل کر دی گئی۔
سہیل خان آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب
لاہور سے اسلام آباد موٹر وے بھی بند کر دی گئی ہے، مذہبی جماعت کے احتجاج پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وطن عزیز میں مذہب کے نام پر مسلح جتھے بنانا، سڑکیں بند کرکے عوام کو یرغمال بنانا توہین مذہب ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ دو سال غزہ میں ظلم اور خون کی ہولی کھیلی گئی کسی کو احتجاج یاد نہ آیا، جب وہاں جنگ بندی ہو گئی تو احتجاج شروع ہو گیا۔ وقت آ گیا ہے کہ معاشرے کو یرغمال بنانا، مذہب کے نام پر تشدد کا سبق پڑھانا بند ہونا چاہیے۔
