پاکستان کے سب سے بڑے انٹرٹینمنٹ ایونٹس میں شمار ہونیوالے ہم ایوارڈ (HUM Awards) کے دسویں ایڈیشن کی رنگا رنگ تقریب امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں منعقد ہوئی۔
یہ تقریب پاکستانی شوبز انڈسٹری کے دمکتے ستاروں کا ایک جھرمٹ ثابت ہوئی جہاں ٹیلی ویژن انڈسٹری کے بہترین فنکاروں اور ڈرامہ سیریلز کو بہترین اداکاری، تخلیقی صلاحیتوں اور فنی خدمات جیسی کیٹیگریز میں ایوارڈز سے نوازا گیا۔
View this post on Instagram
اس سال دو ڈرامے ‘عشق مرشد’ اور ‘زرد پتوں کا بن’ سب سے نمایاں رہے اور کئی بڑے ایوارڈز اپنے نام کیے۔
‘عشق مرشد’ کو سال کا بہترین ڈرامہ قرار دیا گیا، جبکہ بلال عباس خان کو اسی ڈرامے میں شاندار اداکاری پر بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔
اسی ڈرامے سے بلال عباس اور درفشاں سلیم کو بہترین آن اسکرین جوڑی کا ایوارڈ بھی ملا، اور احمد جہاں زیب کو اسی ڈرامے کے بہترین او ایس ٹی پر سراہا گیا۔
View this post on Instagram
دوسری جانب، سجل علی نے ‘زرد پتوں کا بن’ میں مرکزی کردار ادا کر کے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیتا۔
اسی ڈرامے سے علی طاہر نے بہترین معاون اداکار اور سید تنویر حسین نے سب سے مؤثر کردار کا اعزاز حاصل کیا۔
ہم نیٹ ورک کا ڈرامہ ‘آدھی بے وفائی’ ہمارے اردگرد کی کہانی
ہدایتکاری کے میدان میں سیفِ حسن کو ‘زرد پتوں کا بن’ اور فاروق رند کو ‘عشق مرشد’ پر بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ مشترکہ طور پر دیا گیا۔
View this post on Instagram
بہترین مصنف کا ایوارڈ مصطفیٰ آفریدی کو ‘زرد پتوں کا بن’ کے لیے دیا گیا۔
فیصل قریشی نے ‘ظلم’ میں اپنے منفی کردار کے ذریعے بہترین نیگیٹو رول کا ایوارڈ حاصل کیا، جبکہ اسی ڈرامے سے سحر ہاشمی نے بہترین نوآموز اداکارہ کا اعزاز جیتا۔
ضرار خان کو بہترین مرد نوآموز اداکار قرار دیا گیا۔
View this post on Instagram
‘بے رنگ’ کو بہترین سوپ سیریل اور ‘سلطنت’ کو بہترین طویل دورانیے کے ڈرامے کا ایوارڈ دیا گیا۔
تقریب میں ہانیہ عامر کو ان کی بین الاقوامی شہرت کے اعتراف میں ‘گلوبل اسٹار ایوارڈ’ دیا گیا۔
View this post on Instagram
اس کے علاوہ معروف سینئر اداکار عدنان صدیقی کو شوبز انڈسٹری میں ان کی طویل اور قابلِ قدر خدمات پر ‘ہم اسپیشل گولڈن پلیٹ’ پیش کی گئی۔
ہم ایوارڈز کی تاریخ
ہم نیٹ ورک گزشتہ دس سالوں سے ہم ایوارڈز کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں، کہانیوں اور فنکاروں کی محنت کو سراہتا آ رہا ہے۔
پہلے ہم ایوارڈز 2013 میں کراچی کے ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوئے تھے، جہاں شاندار پرفارمنسز اور بہترین فنکاروں کو سراہا گیا تھا۔ اگلے سال کی تقریب نے بھی اسی جوش و خروش کو جاری رکھا۔
View this post on Instagram
ہم ٹی وی نے جب تیسرے ایوارڈز دبئی میں منعقد کیے، تو یہ ان کی پہلی بین الاقوامی تقریب بن گئی۔
چوتھے ایوارڈز ایک بار پھر کراچی میں ہوئے، اور پانچویں تقریب لاہور میں ہوئی، جسے جنید جمشید کو دی گئی خراجِ عقیدت کے باعث یاد رکھا جاتا ہے۔
اس کے بعد ہم ایوارڈز نے دنیا بھر میں پاکستانی شوبز انڈسٹری کو نمایاں کرنا شروع کیا۔ چھٹے ایوارڈز کینیڈا کے ‘فرسٹ اونٹاریو سینٹر’ میں، ساتویں امریکہ کے ‘ہیوسٹن’ میں اور آٹھویں بار پھر کینیڈا میں منعقد ہوئے۔
View this post on Instagram
نواں ایڈیشن لندن کے ‘او وی او ایرینا ویمبلے’ میں ہوا، جہاں پاکستانی فنکاروں نے زبردست پرفارمنسز دیں۔
اب 2025 میں دسویں ہم ایوارڈز ہیوسٹن (امریکہ) کے ‘این آر جی ایرینا’ میں منعقد ہوئے ہیں، جہاں بہترین فنکاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے سلسلے کا ایک دہائی پر مشتمل سفر مکمل ہوا ہے۔
