پشاور: سہیل خان آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب کر لیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لئے اسپیکر بابر سلیم کی زیرصدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ وزیر اعلیٰ کے امیدوار سہیل آفریدی خیبرپختونخوا اسمبلی میں موجود تھے۔
خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو گیا، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد وزیراعلی کے انتخاب کی دوڑ سے باہر ہوگئے تھے۔
افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، وزیر اعظم
اسمبلی اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی عمل سے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، فیصلہ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں جے یو آئی (ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمٰن اور اکرم خان درانی بھی شریک تھے، اجلاس کے دوران اسپیکر بابر سلیم بھی اپوزیشن جماعتوں کو راضی نہ کر سکے۔
حکومتی اراکین نے علی امین گنڈاپور کا استقبال کیا، اس موقع پر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ سہیل خان آفریدی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،سہیل آفریدی کو ہرقسم کی حمایت حاصل ہوگی، ان کے ساتھسہیل آفریدی کیساتھ جمہوریت کا سفر جاری رہے گا۔
وزارت داخلہ نے پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کے بارے میں اہم اجلاس طلب کر لیا
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میرے استعفے کے ساتھ مذاق ہورہا ہے،8اکتوبر کو استعفیٰ گورنرہاؤس کو بھجوایاتھا،جمہوری عمل کوہونے دیں اور تاخیری حربے استعمال نہ کریں،18ماہ میں بطور وزیر اعلیٰ جو کچھ کیا وہ ریکارڈ پرہے، میری کارکردگی اچھی تھی یا بری وہ سب کے سامنے ہے۔
280ارب روپے خزانے میں پڑے ہوئے ہیں،ہم نے 35ارب روپے ترقیاتی بجٹ میں اضافی دیا، ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے ملک میں امن اورانصاف ہو،دہشت گردی اورمعاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کوششیں کیں،علی امین گنڈاپور
ملک اور اور صوبے کے جو چیلنجز ہیں ان سے نمٹنے کیلئے آگے بڑھنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل نے ظلم کا بازارگرم کررکھاہے،ہماری جد وجہد پاکستان اور صوبے کیلئے جاری ہے، ان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے سرخرو کیا۔
اپوزیشن لیڈرعباد اللہ نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرا وزیراعلیٰ نہیں بن سکتا، ابھی تک استعفیٰ منظور نہیں ہوا، اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ علی امین گنڈاپور کو اب بھی وزیر اعلیٰ سمجھتا ہوں ، آئین میں استعفیٰ منظور کرنے کا طریقہ کار ہے ،آج مجھے گورنر ہاؤس سے خط ملا ہے ، خط کے مطابق ہم غیرآئینی کام نہیں کرسکتے ، نہ استعفیٰ منظور ہوا اورنہ ہی کابینہ معطل ہوئی۔
گورنر نے علی امین کے استعفے پر دستخطوں کے فرق کا اعتراض اٹھا دیا
اپوزیشن لیڈر عباداللہ کی تقریر کے دوران خیبرپختونخوا اسمبلی میں شور شرابا جاری رہا، اسپیکرخیبرپختونخوااسمبلی کی جانب سے تمام اراکین کو خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی، اپوزیشن لیڈر نے اس موقع پر کہا کہ یہ ورکرز ہیں ،میں ان کے جذبات کا احترام کرتا ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ ورکرز پہلے علی امین گنڈا پور کے حق میں نعرے لگا رہے تھے آج سہیل آفریدی کیلئے لگا رہے ہیں، علی امین گنڈاپور کااستعفیٰ منظور ہی نہیں ہوا، ہم واک آؤٹ کرتے ہیں، ہم غیر قانونی اقدام کا حصہ نہیں بنیں گے، جس کے بعد اپوزیشن کے تمام ارکان اسمبلی ہال سے باہر چلے گئے۔
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ علی امین نے استعفیٰ دیا اور فلور آف ہائوس پر کہہ دیا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل آئینی اور قانونی ہے۔
سہیل آفرید ی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب کر لیے گئے ہیں، وہ 90 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب ہو گئے ہیں۔
