قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کی قیادت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی سلیکٹرز نے آئندہ سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے قیادت میں تبدیلی کے امکانات پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے۔
ایشیا کپ 2025 میں ٹیم کے فائنل تک پہنچنے کے باوجود، کپتان سلمان علی آغا کی بیٹنگ اور فیصلہ سازی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ٹورنامنٹ کے دوران وہ سات اننگز میں صرف 72 رنز بنا سکے، اوسط 12 اور اسٹرائیک ریٹ 80.89 رہا، جب کہ کئی مواقع پر وہ غیر ضروری شاٹس کھیل کر وکٹ گنواتے نظر آئے۔ یہی کارکردگی اُن کی کپتانی کے ساتھ ساتھ ٹیم میں اُن کی جگہ پر بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے اندر اس وقت دو گروپ واضح طور پر سامنے آچکے ہیں۔ ایک گروپ کپتان کی تبدیلی کا حامی ہے، جب کہ دوسرا گروپ مائیک ہیسن اور سلیکشن کمیٹی کی قیادت میں موجود رہتے ہوئے سلمان علی آغا کے ساتھ تسلسل برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
ہم نے زیادہ غلطیاں کیں جس کی وجہ سے میچ ہارے، سلمان علی آغا
ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا مؤقف ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل قیادت میں تبدیلی ٹیم کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے کپتان کو مزید مواقع دیے جانے چاہییں۔
دوسری جانب بعض سلیکٹرز کا خیال ہے کہ مسلسل ناکامیوں اور بھارت کے خلاف ناقص کارکردگی نے قومی ٹیم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، اس لیے قیادت میں تبدیلی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔
