اگر آپ برگر، پیزا یا دیگر جنک فوڈز کے دیوانے ہیں تو ذرا محتاط ہو جائیں، کیونکہ ان غذاؤں کا صرف چند دن تک مسلسل استعمال بھی دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بات امریکا کی یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا اسکول آف میڈیسن کی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
تحقیق کے مطابق ہماری خوراک دماغی صحت پر ہماری سوچ سے کہیں زیادہ اثر ڈالتی ہے۔ جنک فوڈ یادداشت کے نظام کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یادداشت کمزور ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تجربے کے دوران محققین نے چوہوں کو زیادہ چکنائی اور چربی والی خوراک کھلائی۔ صرف چار دن بعد ہی ان کے دماغی خلیات پر منفی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ پہلے سے معلوم تھا کہ خوراک اور میٹابولزم دماغ سے جڑے ہیں، مگر یہ حیرت انگیز دریافت ہوئی کہ مخصوص دماغی خلیات جنک فوڈ کے اثرات کے سامنے کتنی تیزی سے کمزور ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ خلیات بہت تیزی سے اپنی سرگرمیاں بدلنے لگے، جس سے یادداشت متاثر ہونے کا خطرہ فوراً بڑھ گیا۔
تحقیق کے نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ چکنائی سے بھرپور فاسٹ فوڈ دماغ پر فوری منفی اثر ڈال سکتا ہے، اور یہ اثر جسمانی وزن بڑھنے یا ذیابیطس جیسے امراض سے پہلے ہی ظاہر ہو جاتا ہے۔
مزید یہ کہ یادداشت کا نظام خوراک کے لحاظ سے نہایت حساس ہوتا ہے، اس لیے دماغی صحت برقرار رکھنے کے لیے متوازن اور صحت مند غذا انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ زیادہ چکنائی والے جنک فوڈز کا طویل استعمال نہ صرف یادداشت کو متاثر کرتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے دماغی امراض کے خطرات کو بھی بڑھا دیتا ہے۔
واضح رہے کہ مئی 2025 میں کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی یہی بات سامنے آئی تھی کہ جنک فوڈز کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، وزن میں اضافے اور توند جیسے مسائل سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
اس تحقیق میں کینیڈا کے مختلف علاقوں کے 6 ہزار سے زائد بالغ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے پتا چلا کہ جو لوگ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں (جنک فوڈ) پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، وہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔
ایسے افراد میں موٹاپا، بلڈ پریشر، انسولین مزاحمت اور خون میں چربی جیسے مسائل عام پائے گئے، جب کہ وہ لوگ جو متوازن غذا کھاتے ہیں، ان میں یہ خطرات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، الٹرا پراسیسڈ غذائیں نہ صرف موٹاپا اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھاتی ہیں بلکہ امراضِ قلب، ہائی کولیسٹرول اور جسمانی سوزش (ورم) جیسے مسائل کا بھی باعث بنتی ہیں۔
