ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دن کا پہلا کھانا یعنی ناشتہ اگر وقت پر نہ کیا جائے تو یہ صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ناشتہ دیر سے کرنے کی عادت عمر رسید کی ذہبی دباؤ اور منہ کی صحت کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے۔
تحقیق میں 42 سے 94 سال کے 3 ہزار برطانوی افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جو 3 سال تک زیر مشاہدہ رہے۔ نتائج سے معلوم ہوا جو لوگ ناشتہ دیر سے کرتے ان میں تھکن، دانتوں اور مسوڑوں کی بیماریاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ناشتہ دیر سے کرنے والے افراد کا جسم وقت سے پہلے بوڑھا ہونے لگتا ہے۔ اور مختلف جسمانی مسائل ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ ناشتہ صرف غذائیت کے لیے نہیں بلکہ مکمل جسمانی و ذہنی صحت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انسان کی یاداشت اور ذہانت پر اثر انداز ہونے والا مرض
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ناشتہ بادشاہوں کی طرح اور وقت پر کیا جائے۔ ماہرین نے ہر عمر کے افراد کو خصوصاً بزرگوں کو جلد ناشتہ کرنے کی عادت اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔
