افغان کپتان راشد خان ایشیا کی دوسری بہترین ٹیم کا لقب ملنے اور مذاق اڑانے پر نالاں ہیں۔
افغانستان ٹیم ایشیا کپ کے گروپ مرحلے میں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی، افغان ٹیم کو ایونٹ کی فیورٹ ٹیم میں شمار کیا جا رہا تھا، اس کی وجہ ان کی انٹرنیشنل ایونٹس میں اچھی کارکردگی تھی۔
افغانستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان راشد خان کا کہنا ہے کہ میڈیا پر ایک بات بار بار چل رہی ہے کہ لوگ ہمیں ایشیا کی دوسری بہترین ٹیم کہتے ہیں،افغان کپتان کہا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا لیکن گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہم نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
افغان کپتان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ، ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور ون ڈے ورلڈ کپ ہر ایونٹ میں ہم نے بڑی ٹیموں کو شکست دی، انگلینڈ کو چیمپیئنز ٹرافی میں شکست دی، اسی وجہ سے ہمیں یہ ٹیگ ملا۔
ایشیا کپ جیتنے کے بعد کلدیپ یادیو بھی پاکستانی ٹیم کیلئے بول پڑے
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اگر ہم اچھی کارکردگی نہ دکھائیں تویقیناً تیسرے، چوتھے یا پانچویں پوزیشن پر ہوں گے لیکن ایشیا کی دوسری بہترین ٹیم کا ٹائٹل ہم نے خود کو کبھی نہیں دیا۔
راشد خان نے کہا کہ کبھی آپ اچھا کھیلتے ہیں تو کبھی برا، یہ سب کھیل کا حصہ ہے، سوچ ہمیشہ مثبت ہونی چاہیے اور بہتر کھیلنے کا جذبہ ہونا چاہیے، البتہ لوگ اس پر مذاق اڑاتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ آج کل جتنا آپ کسی کا مذاق اڑائیں لوگ آپ کو اتنا پسند کرتے ہیں لیکن یہ اچھا نہیں لگتا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے ایشیا کپ سے پہلے زیادہ ٹی ٹوئنٹی میچز نہیں کھیلے جس کی وجہ سے ہم آہنگی میں کمی رہی، باؤلنگ اٹیک کنڈیشنز کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکا اور بیٹنگ بھی معیاری نہ ہوئی۔
