ماسکو: شام کے سابق صدر بشار الاسد کو زہر دے دیا گیا۔ تاہم اب ان کی حالت قدر بہتر ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 10 ماہ قبل اقتدار سے ہٹائے گئے شام کے سابق صدر بشارالاسد کو ماسکو میں زہردے کر مارنے کی کوشش کی گئی۔ حالت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت بہتر ہونے کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔
خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ بشار الاسد پر قاتلانہ حملے کا مقصد روس کو بدنام کرنا اور روس کو بشار الاسد کے قاتلانہ حملے کا ذمہ دار ٹھہرانا تھا۔
بشار الاسد پر قاتلانہ حملے کے بعد اب صرف ان کے بھائی ماہرالاسد کو ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 60 سالہ بشار الاسد شام کی صدارت سے ہٹٓنے جانے کے بعد روس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار کارکنوں کو یورپ ڈی پورٹ کیا جائے گا، اسرائیلی حکام
شام میں نئی حکومت نے روس سے بشار الاسد کی حوالگی کا دعویٰ کر رکھا ہے تاہم روس سابق صدر کی حوالگی سے انکاری ہے۔
بشار الاسد کو زہر دینے کے حوالے سے اب تک روسی حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
