کیا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ آپ دفتر میں دن بھر کام کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، لیکن جیسے کوئی دیکھ ہی نہیں رہا؟ جیسے آپ کرسی پر موجود تو ہیں، مگر دفتر کے لیے نظر انداز ہو؟ یہی کیفیت آفس لونلی نیس یا دفتر کی تنہائی کہلاتی ہے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق دفتر میں نظرانداز ہونا صرف جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ بتدریج خوداعتمادی کو کمزور کرتا ہے اور انسان کو تنہائی کے کرب میں مبتلا کر دیتا ہے، سائیکالوجسٹ ہبا سالم نے کہا کہ یہ نظر نہ آنے کا احساس بظاہر خاموش دکھائی دیتا ہے مگر اندر ہی اندر بہت بڑا بوجھ بن جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب انسان کی محنت کو تسلیم نہ کیا جائے تو وہ اپنی اہمیت پر سوال اٹھانا شروع کر دیتا ہے، یہی سوچ ذہنی دباؤ، بے چینی، اور توجہ میں کمی پیدا کرتی ہے، اور یہ کارکردگی متاثر اور کبھی کبھار یہ کیفیت ڈپریشن تک لے جاتی ہے۔
جین زی کے اعلیٰ عہدے اُن کے کیریئر کے لیے خطرہ؟

ماہرین نفسیات کے مطابق یہ مسئلہ صرف جسمانی تنہائی سے نہیں جڑا، بلکہ روز دفتر آنا، میٹنگز میں شریک ہونا اور پھر بھی اکیلا پن محسوس کرنا جذباتی تنہائی کہلاتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتیں جیسے کسی ای میل میں شامل نہ کیا جانا اور دفتر کے تمام کولیگ کی ملاقاتوں میں مدعو نہ ہونا سے ہوتا ہے۔
اس مسئلے کا حل؟
ماہرین کے مطابق سب سے پہلے اس احساس کو پہچانا اور نام دینا ضروری ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ جذباتی طور پر نظر آنا انسان کی ذہنی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔
طبی دنیا میں انقلاب، منٹوں میں فریکچر جوڑنے والا سپر گلو تیار
کام کی جگہ پر تنہائی اور نظرانداز کئے جانے کے احساس سے نمٹنے کے لیے اپنی کارکردگی اور کام کو دستاویزی شکل میں محفوظ کریں تاکہ آپ کے کام کا ریکارڈ موجود رہے، سپروائزر سے واضح فیڈبیک مانگیں اور اپنے خیالات اور ضروریات کا اظہار کھل کر کریں، اس کے علاوہ دفتر کے باہر دوستوں، خاندان اور سپورٹ نیٹ ورک میں حصہ لے تاکہ آپ کو ایک مضبوط سماجی حمایت مل سکے۔

• اپنی محنت اور قدر کو خود تسلیم کریں
• کام کی جگہ پر ایک یا دو مضبوط تعلقات بنائیں
• جذباتی حدیں قائم کریں تاکہ ہر چھوٹے واقعے کو ذاتی نہ لیں
• جذبات کو سنبھالنے کے لیے گہری سانسیں یا مختصر وقفے لے
ماہرین کے مطابق اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسی ثقافت کو فروغ دیں جہاں صرف کارکردگی پر نہیں بلکہ ہمدردی اور بامعنی انسانی تعلقات پر بھی برابر توجہ دی جائے۔
