نیدرلینڈز کی رادباوڈ یونیورسٹی نیمیخن میں سائنسدان فیلکس ہول کی سربراہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چند روزمرہ عادات انسان کو مچھروں کا زیادہ نشانہ بناتی ہیں۔
بایو آرکائیو میں شائع رپورٹ کے مطابق سائنسدان یہ جاننا چاہتے تھے کہ کچھ افراد کو مچھر زیادہ کیوں کاٹتے ہیں، اس مقصد کے لیے نیدرلینڈز کے مشہور میوزک فیسٹیول میں 500 رضا کاروں پر تجربہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق شرکاء سے ان کی روزمرہ عادات اور صفائی ستھرائی کے بارے میں سوالات کئے گئے، پھر ان کے ہاتھ ایک ایسے ڈبے میں رکھوائے گئے جس میں ہزاروں مادہ مچھر موجود تھے، یہ مچھر خوشبو کو سونگھ سکتے تھے لیکن کاٹنے کے قابل نہیں تھے۔
برازیلی بھنی ہوئی چیونٹیوں سے بنے پنیر نے عالمی ایوارڈز جیت لئے
تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ بعض مشروبات (شراب یا بیئر) استعمال کرنے والے افراد مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہوتے ہیں، اسی طرح وہ لوگ بھی زیادہ نشانے پر آئے جو کم نہاتے تھے یا سن اسکرین کا استعمال نہیں کرتے تھے۔
سائنسدانوں کے مطابق مشروبات ایک فیکٹر کے طور پر ضرور شامل ہیں، لیکن اصل وجہ انسانی جسم کی مخصوص خوشبو اور پسینہ ہے، سائنسدان فیلکس ہول نے کہا کہ فیسٹیول میں بعض افراد زیادہ رقص کرتے ہیں، جس سے ان کا درجہ حرارت اور جسمانی خوشبو بدلتی ہے اور مچھر ان کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔
ماہرین موسمیات کی ریکارڈ توڑ سردی کی پیشگوئی، سخت موسم میں کیا کریں، کیا نہ کریں
تحقیق کے مطابق مچھر انسانی جسم کی بو کو 350 فٹ کی دوری سے بھی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ماہرین نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ مطالعہ محدود دائرہ کار کا حامل ہے، کیونکہ فیسٹیول کے شرکاء زیادہ تر نوجوان اور صحت مند تھے۔
ماہرین کے مطابق حتمی نتائج کے لیے مزید وسیع پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ فی الحال مچھروں سے بچنے کے لیے باقاعدگی سے نہانے، سن اسکرین کے استعمال اور صفائی کا خاص خیال رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
