اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی وضاحت کی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ تمام ڈیجیٹل فنڈ ٹرانسفرز پر دو گھنٹے کا کولنگ پیریڈ لگایا گیا ہے۔ مرکزی بینک کے ترجمان کے مطابق یہ دعویٰ غلط اور گمراہ کن ہے۔
انگلینڈ کے آل راؤنڈر کرس ووکس کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
اسٹیٹ بینک کے مطابق تمام ڈیجیٹل فنڈ ٹرانسفرز جیسے کہ انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل ایپ یا دیگر سروسز کے ذریعے کی جانے والی ٹرانزیکشنز ریئل ٹائم میں مکمل ہوتی ہیں، اور رقم فوری طور پر وصول کنندہ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔
البتہ، وضاحت کی گئی ہے کہ دو گھنٹے کا کولنگ پیریڈ صرف برانچ لیس بینکنگ والیٹس یا اکاؤنٹس پر لاگو ہوتا ہے۔ ان اکاؤنٹس میں رقم فوری طور پر موصول ہو جاتی ہے، تاہم اس رقم کا استعمال جیسا کہ کیش آؤٹ، آن لائن خریداری یا موبائل ٹاپ اپ صرف دو گھنٹے بعد کیا جا سکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ پالیسی اپریل 2023 میں متعارف کرائی گئی تھی تاکہ صارفین کو کسی بھی ممکنہ فراڈ یا دھوکہ دہی کی صورت میں فوری اطلاع دینے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ کیونکہ برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس کے لیے کسٹمر ڈیو ڈیلیجنس کی شرائط نسبتاً آسان ہوتی ہیں، اس لیے ان میں فراڈ کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔
ٹروپیکل سائیکلون کا پہلا وارننگ الرٹ جاری
ترجمان کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال سے یہ کولنگ پیریڈ مؤثر طور پر لاگو ہے اور اس سے فراڈ کی روک تھام میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غلط معلومات پر یقین نہ کریں اور تصدیق شدہ ذرائع سے ہی خبریں حاصل کریں۔
