ایشیا کپ ٹرافی نہ ملنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے معاملہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری دیواجیت سائیکیا کا کہنا ہے کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں آئی سی سی کا اجلاس دبئی میں ہو رہا ہے، ہم ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرپرسن کے خلاف شدید احتجاج کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے بھارت کا کرکٹ بورڈ حکومتی پالیسی پر عمل کر رہا ہے، ہم باہمی سیریز نہیں کھیلتے، ایشیا کپ ملٹی نیشنل ٹورنامنٹ ہے، پاکستانی ٹیم کو ہرانے پر بھارتی ٹیم پر فخر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے محسن نقوی سے ٹرافی نہ لینے کا فیصلہ کیا، وہ پاکستان گورنمنٹ کے مرکزی لیڈر ہیں۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے مزید کہا کہ وہ ٹرافی اور میڈلز اپنے ساتھ لے گئے۔
جنگ کو کھیل سے جوڑنا مایوسی کی علامت ہے ، محسن نقوی کا مودی کو جواب
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد ٹرافی میڈلز بھارت کو واپس کئے جائیں گے، اس موقع پر انہوں نے بھارتی ٹیم کو پاکستان کو ہرانے پر 21 کروڑ دینے کا اعلان بھی کیا۔
یاد رہے کہ بھارتی ٹیم تین بار پاکستانی ٹیم کے آمنے سامنے آئی لیکن ہاتھ نہ ملایا اور ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی سے ٹرافی بھی نہ لینے کا اعلان کیا۔ اس بارے میں بھارتی بورڈ نے اے سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جس کے بعد ایشیا کپ ٹرافی میدان سے واپس منگوا لی گئی تھی۔
اپنے کیریئر میں کبھی نہیں دیکھا کہ ٹرافی جیتنے والی ٹیم کو نہ دی گئی ہو، بھارتی کپتان
ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ نے رنر اپ ٹیم (پاکستان) کو انعامات دیے، اس موقع پر اختتامی تقریب بھارتی ٹیم کو ٹرافی دیے بغیر ہی ختم کر دی گئی۔
