یورپی ملک سلووینیا نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر سفری پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔
سلووینیا کی وزارتِ خارجہ کی اسٹیٹ سیکرٹری نیوا گراشچ نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے سلووینیا بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کی اقدار اور ایک اصولی و مستقل خارجہ پالیسی کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نیتن یاہو کے خلاف کارروائی اس لیے کی ہے کیونکہ ان پر عالمی عدالتِ انصاف میں غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔
ٹرمپ آج شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، وائٹ ہاؤس کی تصدیق
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے ہم اسرائیل کو ایک واضح پیغام دے ہے ہیں کہ سلووینیا بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں اور انسانی قوانین پر مکمل عملدرآمد کی توقع رکھتا ہے۔
خیال رہے کہ سلووینیا نے گزشتہ سال باضابطہ طور پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا تھا اور رواں سال جولائی میں اسرائیلی کابینہ کے دو وزراء پر بھی پابندی لگا دی تھی۔
بدعنوانی کا الزام ثابت ، فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو 5 سال قید
اس کے علاوہ سلووینیا نے اگست میں اسرائیل کو اسلحے کی فروخت اور اسرائیلی زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کی جانے والی اشیا کی درآمد پر بھی پابندی عائد کی تھی۔
