پاکستان کے سائنسدانوں نے گلاب (rose)کی نئی قسم تیار کی ہے جو کسانوں کو فی ایکڑ سالانہ 15 لاکھ روپے تک منافع دلا سکتی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل سائنسز، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (uaf) کے ماہرین نے اس نئی قسم کو( روزا سینٹی فولیئا یو اے ایف) کے نام سے متعارف کرایا ہے۔
سیمنٹ کی مقامی کھپت میں سالانہ بنیادوں پر10فیصد اضافہ
محققین کے مطابق اس پھول کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت اور صنعتی استعمال کے وسیع مواقع اسے کسانوں اور برآمد کنندگان کے لئے ایک گیم چینجر بناتے ہیں۔
یو اے ایف کے پروفیسر آف فلوریکلچر ڈاکٹر افتخار احمد کہتے ہیں کہ اس قسم کے ایک ایکڑ میں لگائے گئے تقریباً 5 ہزار پودے ایک کلو اعلیٰ معیار کا گلاب کا تیل پیدا کرتے ہیں جس کی قیمت تقریباً 15 لاکھ روپے بنتی ہے۔
اخراجات نکالنے کے بعد کسان کو فی ایکڑ 7 لاکھ 40 ہزار روپے تک خالص منافع ہوتا ہے، جو بڑے پیمانے پر کاشت کرنے والوں کے لیے انتہائی منافع بخش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسان گلاب کا تیل نکالنے میں سرمایہ کاری نہ کرسکیں تو بھی دیگر ذرائع سے اچھی آمدنی ممکن ہے۔
آزادکشمیر میں ہڑتال اور احتجاجی کال،وفاقی حکومت کا مذاکرات کا فیصلہ
صرف پتیوں کی فروخت سے فی ایکڑ چار لاکھ روپے تک کی آمدنی ہوسکتی ہے، جس میں خالص منافع ڈھائی لاکھ روپے کے قریب رہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گلاب کو عرق گلاب میں پروسیس کرنے سے فی ایکڑ 50 ہزار لیٹر تک پیداوار حاصل ہوسکتی ہے جس سے تقریباً 15 لاکھ روپے کی فروخت اور چھ لاکھ روپے منافع ممکن ہے۔
اسی طرح گلقند بنانے سے فی ایکڑ ساڑھے سات لاکھ روپے کی فروخت اور اڑھائی لاکھ روپے خالص آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
یہ نئی قسم روایتی سرخ گلاب (سرخا) کے برعکس شدید گرمی میں بھی پھول دیتی ہے اور 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت میں بھی اپنی خوشبو اور شکل برقرار رکھتی ہے۔
حکومت کا گندم کی امدادی قیمت بحال کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ یہ ایک ایسی قسم ہے جو پاکستان کے بدلتے ہوئے موسمی حالات کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ شدید گرمی میں بھی اپنے سائز، خوشبو اور تیل کے معیار کو برقرار رکھتی ہے۔
ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید بتایا کہ یہ گلاب خوشبو، کاسمیٹکس، خوراک اور دوائیوں سمیت مختلف صنعتوں کے لئے مواقع فراہم کرتا ہے۔
یہ نئی قسم نومبر سے فروری کے درمیان قلموں کے ذریعے آسانی سے اگائی جاسکتی ہے جس سے کسانوں کے لئے اس کی کاشت کے دروازے مزید کھل جاتے ہیں۔
یہ پیشرفت نہ صرف مقامی کسانوں کے لئے آمدنی کا نیا ذریعہ فراہم کرے گی بلکہ پاکستان کو 60 ارب ڈالر کی عالمی فلوریکلچر مارکیٹ میں داخلے کا بھی موقع دے گی۔
