اگلے 25 سالوں یعنی 2050 تک سوشل میڈیا انفلوئنسرز کیسے دکھیں گے، ایک نئی سائنسی تحقیق نے ہوشربا پیش گوئی کر دی۔
آج سے 25 سال پہلے کوئی سوشل میڈیا کا تصور بھی شائد نہیں کر سکتا تھا لیکن یہ آج ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے کہ جس کے بغیر نوجوانوں خصوصا مشہور شخصیات کا گزارا ممکن نہیں۔
انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے بڑے انفلوئنسرز اپنی روزمرہ زندگی، دلچسپیوں اور رشتوں کو شیئر کر کے ہر ماہ ہزاروں ڈالر کما رہے ہیں۔
لیکن سوشل میڈیا کے استعمال کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ ایپس بعض اوقات احساسِ کمتری، عدم اطمینان اور تنہائی کو بڑھا دیتی ہیں، نیند کو متاثر کرتی ہیں اور ڈپریشن و ذہنی دباؤ جیسے مسائل کو مزید خراب کرتی ہیں۔
ماہرین نے اُن لوگوں کو خبردار کیا ہے جو انفلوئنسر بننے کا خواب دیکھتے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر “ایوا” نامی خاتون کی تصویر جاری کی گئی ہے، جسے دکھا کر بتایا گیا ہے کہ اگر فون کے حد سے زیادہ استعمال کی عادت نہ بدلی گئی تو آئندہ 25 برسوں میں لوگ کس حال کو پہنچ سکتے ہیں۔

فہد مصطفیٰ کی دوسری شادی کی افواہیں، سوشل میڈیا پر ہلچل
طبی تحقیق کے مطابق جاری کی گئی ایک تصویر میں خاتون کو “ٹیک نیک” یا “ٹیکسٹ نیک” سنڈروم کا شکار دکھایا گیا ہے۔
جریدہ Interdisciplinary Neurosurgery میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جو لوگ طویل وقت تک اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، اُن کی گردن اکثر 15 سے 60 ڈگری جھکاؤ کی پوزیشن میں رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک جدید وبا بنتی جا رہی ہے جو طویل المدتی نقصان اور مستقل گردن کے درد کا باعث بن سکتی ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ انفلوئنسرز ہفتے میں 90 گھنٹے تک کام کرتے ہیں اور زیادہ تر وقت آئی فون، آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ پر جھک کر اپنا مواد تیار اور ایڈٹ کرنے میں گزارتے ہیں۔
طبی تحقیق کے مطابق Ava کی یہ ظاہری شکل موجودہ انفلوئنسرز کی عادات کا مجموعہ ہے۔ ایوا کی تصویر میں اس کی جلد پر سرخ دھبے بھی دکھائے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مسائل روزانہ کاسمیٹکس کے استعمال اور بیوٹی انفلوئنسرز کی عام عادات کا نتیجہ ہیں، جن میں مسلسل نئے اسکن کیئر پراڈکٹس آزمانا اور بھاری میک اپ لگانا شامل ہے۔
تحقیق میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایل ای ڈی لائٹس کے طویل عرصے تک سامنا کرنے سے بڑھاپے کے آثار تیزی سے نمودار ہوتے ہیں۔
جریدہ *Aging and Mechanisms of Disease* میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مصنوعی روشنی میں زیادہ وقت گزارنا انسانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
مزید یہ کہ 2019 میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ روزانہ بلیو لائٹ کے زیادہ استعمال سے نہ صرف زندگی کی مدت کم ہو سکتی ہے بلکہ دماغی کمزوری اور نیوروڈی جینریشن جیسے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔
