ایشیا کپ 2025 کے سب سے بڑے اور اہم معرکے میں دبئی کرکٹ اسٹیڈیم نے ایک انوکھا منظر دیکھا، جب پاکستان اور بھارت کے کپتانوں نے ٹاس کے موقع پر ایک دوسرے سے ہاتھ تک نہ ملایا۔ سیاسی تناؤ اور میچ کے بائیکاٹ کے بڑھتے مطالبات کے درمیان اس غیر روایتی لمحے نے شائقین کرکٹ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔
پاکستانی کپتان سلمان علی آغا اور بھارتی کپتان سوریا کمار یادو اس وقت میدان میں آئے جب اسٹیڈیم میں تماشائیوں کا جوش عروج پر تھا۔ تاہم روایتی انداز کے برخلاف دونوں کپتان نہ تو ایک دوسرے کی طرف بڑھے، نہ مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا اور نہ ہی کوئی رسمی مصافحہ دیکھنے کو ملا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دباؤ اور سیاسی صورتحال نے اس بار کھیل کے ابتدائی لمحے کو بھی متاثر کیا۔
ٹاس کے نتیجے میں پاکستان کو کامیابی ملی اور کپتان سلمان آغا نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق دبئی کی پچ بیٹنگ کے لیے سازگار ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بیٹنگ کو ترجیح دی۔ دونوں ٹیموں نے اپنے گزشتہ میچز میں شامل پلیئنگ الیون کو ہی برقرار رکھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کپتان اپنے کھلاڑیوں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
میچ سے قبل سوشل میڈیا پر بھی دونوں ٹیموں کے مداحوں کے درمیان زبردست بحث جاری رہی۔ ایک طرف بھارتی شائقین اپنی ٹیم کو فیورٹ قرار دے رہے تھے، تو دوسری طرف پاکستانی کرکٹ کے چاہنے والے گرین شرٹس کی فتح کے حق میں پرجوش دکھائی دیے۔ دبئی اسٹیڈیم میں بھی پاکستانی شائقین کی بڑی تعداد موجود ہے، جو اپنی ٹیم کو بھرپور سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان کو 170 سے 180 کے درمیان اسکور کرنا چاہیے،ثقلین مشتاق
واضح رہے ایشیا کپ کی ٹرافی کی تقریب رونمائی کے موقع پر بھارتی کپتان کو سلمان علی آغا اور محسن نقوی سے مصافحہ کرنا مہنگا پڑ گیا تھا ، بھارت میں انہیں غدار تک قرار دیدیا گیا۔
