ایشیا کپ 2025 کے گروپ اے میں پاکستان اور بھارت کے میچ سے قبل بھارت میں سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ گئی تھی۔ تاہم، بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے واضح کردیا ہے کہ قومی ٹیم طے شدہ میچ کھیلے گی اور اس فیصلے کے پیچھے مرکزی حکومت کی پالیسی ہے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیوجیت سائیکیا نے کہا کہ پاکستان کے خلاف میچ سے انکار کا مطلب صرف ایک میچ نہ کھیلنا نہیں ہوگا بلکہ اس سے بھارت کے عالمی کھیلوں میں مستقبل پر منفی اثر پڑے گا۔ ان کے مطابق اگر بھارت میچ سے دستبردار ہوتا تو اولمپکس اور کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کے امکانات شدید متاثر ہوتے۔
سائیکیا نے کہا کہ “یہ کوئی ذاتی یا بورڈ کی خواہش پر مبنی فیصلہ نہیں، بلکہ حکومتی پالیسی ہے۔ چونکہ یہ ایک کثیر الملکی ایونٹ ہے اس لیے بھارت کو اس میں حصہ لینا ہی ہوگا۔”
یاد رہے کہ پہلگام حملے کےبعد جب ایشیا کپ کا شیڈول جاری ہوا تو بھارتی شائقین نے بی سی سی آئی پر شدید تنقید کی اور سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کی مہم شروع کردی۔ مداحوں کا موقف تھا کہ ایسے وقت میں پاکستان کے خلاف کھیلنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
بھارتی اوپنر شبھمن گل پریکٹس کے دوران زخمی
بی سی سی آئی سیکریٹری نے ان خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کسی بھی صورت عالمی سطح پر کھیلوں سے تنہا نہیں ہوسکتا۔ “اگر ہم پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کرتے ہیں تو بین الاقوامی سطح پر بھارت کو نقصان پہنچے گا، جو مستقبل میں کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف میچ طے شدہ شیڈول کے مطابق اتوار کو ہی کھیلا جائے گا۔
