چین کے شہر شنگھائی میں ایک جوڑے کے درمیان بچے کا نام رکھنے پرشدید اختلافات سامنے آئے جس کے باعث انہوں نے طلاق کی درخواست دائرکردی۔
بچے کی پیدائش کے ایک سال بعد تک نہ تو اس کا پیدائش سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکا اور نہ ہی ویکسینیشن شیڈول مرتب کیا جا سکا۔
مقامی عدالت نے حال ہی میں جوڑے کے درمیان طلاق کے کیس کی سماعت کی۔ دونوں والدین نے بچے کا نام رکھنے پر اپنی اپنی پسند کا مطالبہ کیا، اور دونوں نے ایک دوسرے سے اصل دستاویزات اور پاور آف اٹارنی کا مطالبہ کیا۔
اسپتال میں بچے کے نام کے اندراج کی کوششیں قواعد کی خلاف ورزی کے باعث مسترد کر دی گئیں۔
عدالت نے والدین کو بچہ نہ ہونے والے جذباتی تنازعات کے بجائے بچے کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
اے آئی کمپنی اوریکل کے شریک بانی لیری ایلیسن دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے
عدالت نے فیصلہ کیا کہ بچہ کی پیدائش سرٹیفکیٹ عارضی طور پر عدالت کی تحویل میں رکھا جائے گا، اور بعد میں ماں کو دی جائے گا تاکہ وہ گھریلو اندراج کا عمل مکمل کر سکے۔
