دوحہ پر حملہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دائرہ کارمیں تیزی سے اضافے کا مظہر ہے جو حالیہ ہفتوں میں چھ مسلم ممالک تک پھیل چکا ہے۔
ان میں فلسطین، لبنان، شام، یمن، ایران اور تیونس شامل ہیں، جہاں اسرائیل مختلف نوعیت کے حملے کرچکا ہے، تیونس میں ایک اسرائیلی ڈرون نے غزہ جانے والے امدادی قافلے کوبھی نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیلی فضائیہ نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے رہائشی علاقے پرحملہ کرکے وہاں موجود حماس کے سیاسی شعبے سے وابستہ افراد کونشانہ بنایا۔
الجزیرہ کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب حماس کے نمائندے قطرمیں امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی منصوبے پربات چیت میں مصروف تھے۔
یہ حملہ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل بیرون ملک موجود حماس رہنماؤں کو بھی نشانہ بنائے گا۔
ادھراسرائیلی وزیرخارجہ گیڈون ساعرنے حال ہی میں جنگ بندی کی امریکی تجویزکوقبول کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
قطرکی وزارت خارجہ نے دوحہ پرحملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے “بزدلانہ” اور “مجرمانہ” اقدام قراردیا۔
ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق حملہ قطر کی خودمختاری، شہریوں کی سلامتی اور علاقائی استحکام پر براہِ راست حملہ ہے، قطر ایسے کسی اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں 37 سال بعد بڑی تبدیلی
الجزیرہ کے نمائندے سہیب العسا کے مطابق حملہ کسی فوجی تنصیب پرنہیں بلکہ ایک مصروف رہائشی علاقے میں کیا گیا، جس کے بعد سکیورٹی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
