وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کالاباغ ڈیم کی حمایت کر دی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائیت کے چکر میں پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا،تحفظات دور کرکے کالاباغ ڈیم جیسا منصوبہ بننا چاہیے۔
سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں گزشتہ ہفتے کے دوران استحکام
بارشوں سے صوبے کے کئی شہروں میں نقصانات ہوئے،بونیر، شانگلہ ، صوابی اور سوات بہت زیادہ متاثر ہوئے،12اور 14 فٹ کاسیلابی ریلاآیا جس نے گھروں کو زمین بوس کردیا۔
سیلابی صورتحال میں تمام ادارے متحرک رہے اور بھرپور کام کیا،24گھنٹوں میں تمام لوگوں تک پہنچ کر ریسکیو کیا گیا،سیلاب متاثرین کے تمام نقصانات کا ازالہ کر رہے ہیں،خیبرپختونخوا میں 490 افرادسیلابی ریلوں کی نذر ہوئے۔
اگست میں مہنگائی کی شرح میں 0.65 فیصد کمی ریکارڈ
سیلاب میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20 ،20 لاکھ روپے دیئے گئے،مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو10، 10 لاکھ روپے دیئے جارہے ہیں۔
اتنی تیزی سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کام نہیں ہوا جتنا ہم نے کیا،اگر ہم نے وقت پر ڈیم بنائے ہوتے تو اتنا نقصان کبھی نہ ہوتا،ہم خیبرپختونخوا میں مزید ڈیم بنا رہے ہیں۔
واضح رہے کالا باغ ڈیم منصوبہ کئی دہائیوں سے زیرِ بحث ہے لیکن تاحال مختلف صوبوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے تعمیر نہیں ہو سکا۔
میری معذرت: وہ ٹاسک جو چیٹ جی پی ٹی نہ کر سکی
کالا باغ ڈیم ایک انتہائی متنازعہ منصوبہ ہے۔ مختلف حکومتوں نے اسے تعمیر کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن صوبائی اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ بار بار مؤخر ہوتا رہا۔ آج بھی یہ پاکستان کے سب سے بڑے مگر غیر تعمیر شدہ منصوبوں میں شامل ہے۔
بین الاقوامی اور ملکی ماہرین کی بڑی تعداد کالا باغ ڈیم کو پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ بروقت مکمل کر لیا جاتا تو آج پاکستان میں توانائی اور پانی کے بحران اس شدت سے موجود نہ ہوتے۔
