معروف کامیڈین و اداکار انورعلی (anwar ali)طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ انورعلی پھیپھڑوں اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ان کا کافی عرصے سے علاج چل رہا تھا۔
ڈیزل 3 روپے سستا، پٹرول کی قیمت برقرار
انور علی کے انتقال کی خبر سنتے ہی فنکار برادری اور مداحوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ساتھی اداکاروں نے کہا کہ انور علی نہ صرف ایک شاندار فنکار تھے بلکہ ایک خوش مزاج اور مخلص دوست بھی تھے۔ ان کی کمی کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
ابتدائی زندگی اور فنی سفر
انور علی نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو سے کیا، جہاں ان کی برجستہ گفتگو اور مزاحیہ جملے سننے والوں کو بہت پسند آئے۔ ریڈیو کے بعد انہوں نے تھیٹر اور اسٹیج کا رخ کیا اور کامیڈی کی دنیا میں ایک نیا انداز متعارف کرایا۔
پاکستان اور آرمینیا کے درمیان باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم
پی ٹی وی کے سنہری دور میں انہوں نے یادگار ڈراموں میں اپنی مزاحیہ اداکاری کے ذریعے ناظرین کے دل جیتے۔ ان کے کردار آج بھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ خاص طور پر ان کے اسٹیج ڈرامے برسوں تک شائقین کو محظوظ کرتے رہے۔،انہوں نے اندھیرا اجالا،ابابیل اور ہوم سویٹ ہوم سمیت درجنوں ڈراموں میں کام کیا۔
کامیڈی کا منفرد انداز
انور علی کا اندازِ مزاح دوسروں سے جدا تھا۔ وہ روزمرہ زندگی کے مسائل کو نہایت سادہ اور دلچسپ انداز میں پیش کرتے تھے۔ ان کی مزاحیہ گفتگو محض قہقہے لگوانے کے لیے نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ سماجی مسائل کو بھی اجاگر کرتے اور لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتے۔
گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد سکولوں کے نئے اوقات کار جاری
ان کی فنکارانہ مہارت کا یہ عالم تھا کہ ناظرین نہ صرف ان کے جملوں پر ہنستے بلکہ اس کے پیچھے چھپی حقیقت پر غور بھی کرتے۔ یہی خوبی انہیں اپنے دور کے کامیڈینز میں ممتاز بناتی تھی۔
ساتھی فنکاروں کی یادیں
شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے انور علی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت شفیق، خوش اخلاق اور رہنمائی کرنے والے شخص تھے۔ وہ نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے اور انہیں کامیڈی کے فن میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے۔
پنجاب:مختلف شہروں کے سیلاب زدہ علاقوں میں سکول بند رکھنے کا اعلان
سینئر فنکاروں کے مطابق انور علی اپنی محفلوں میں خوشی اور قہقہے بکھیرنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی شخصیت خود بھی ایک خوشگوار یاد تھی جو ہمیشہ دوسروں کو مسکرانے پر مجبور کرتی تھی۔
مداحوں کا ردعمل
انور علی کے مداحوں کا کہنا ہے کہ ان کی وفات پاکستانی کامیڈی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ہر دور میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا ہنر رکھتے تھے۔ مشکل حالات میں بھی ان کا فن لوگوں کے لیے خوشی کا سامان بنتا رہا۔
پانچ سے زیادہ سمز استعمال کرنے پر فون بلاک ہونے کی خبریں گمراہ کن قرار
سوشل میڈیا پر مداحوں نے انہیں “ہنسی کا سفیر” قرار دیا اور کہا کہ انور علی کا فن اور ان کا انداز ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
