عالمی بینک نے پاکستان کے دو بڑے شہر، لاہور اور کراچی کو ملک کے سب سے زیادہ محولیاتی خطرے سے دوچار شہر قرار دے دیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق لاہور اور کراچی میں محولیاتی خطرات انسانی جانوں اور معیشت کے لئے شدید نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، یہ رپورٹ پاکستان کنٹری کلائمیٹ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ کے تحت جاری کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور دریائی اور شہری سیلاب کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار شہر کے طور پر سامنے آیا ہے، اعداد و شمار کے مطابق 163 مربع کلومیٹر رہائشی علاقہ دریائی سیلاب جبکہ 129 مربع کلومیٹر شہری سیلاب کے نشانے پر ہے۔
پنجاب میں سیلاب سے تباہی، لاکھوں افراد متاثر، 15 جاں بحق
رپورٹ کے مطابق کراچی شہری سیلاب کے دوسرے بڑے خطرے سے دوچار ہے، خاص طور پر کمزور اور پرانی انفراسٹرکچر کی وجہ سے شہر کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ عداد و شمار کے مطابق 1992 سے 2021 کے دوران موسمیاتی اور ماحولیاتی آفات نے پاکستان کو 29.3 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے، 2022 کے سیلاب میں 14.9 ارب ڈالر املاک کو نقصان اور 15.2 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔
