قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر اعظم خان(azam khan) نے اپنی فٹنس کے مسائل اور خراب عادات کا کھل کر اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کے لیے اب دگنی محنت درکار ہے۔
ایک انٹرویو میں 27 سالہ بیٹر نے کہا کہ وہ اس وقت لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں اپنی فٹنس اور کھیل پر کام کر رہے ہیں۔ وزن کم کرنے کا عمل چند دن یا ہفتوں میں ممکن نہیں، اس کے لیے وقت اور تسلسل درکار ہوتا ہے۔
حالت جنگ ہو یا امن،پاک فوج عوام کے شانہ بشانہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار پانچ سالوں میں وہ مسلسل کرکٹ کھیل رہے تھے، جس کے باعث فٹنس پر بھرپور توجہ نہیں دے سکے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ میری کچھ خراب کھانے پینے کی عادات بھی تھیں، لیکن اب یہ کوئی بہانہ نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں طویل عرصے تک انٹرنیشنل سطح پر کھیلنا ہے تو سخت محنت ناگزیر ہے۔میری منصوبہ بندی ہے کہ اعلیٰ سطح پر کھیلوں، اور اس کے لیے بہترین کھلاڑیوں کی طرح خود کو تیار کرنا ہوگا۔ اگر میں اپنی فٹنس بہتر نہ کرسکا تو باقی کھلاڑیوں کی طرح غائب ہو جاؤں گا۔
این اے 129 ضمنی الیکشن،امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ
اعظم خان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی کہانی ختم نہیں ہوئی، وہ فٹنس کے نئے عزم کے ساتھ قومی ٹیم میں شاندار واپسی کے لیے پرامید ہیں۔
یاد رہے کہ اعظم خان 2024 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں تاہم فٹنس کے باعث قومی ٹیم میں مستقل جگہ نہیں بنا سکے۔ اس کے باوجود وہ دنیا کی مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز میں مستقل طور پر نظر آتے ہیں۔
