دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی۔
قصورمیں ولےوالا اورعارفکی کےحفاظتی بند ٹوٹ گئے،پانی گھروں اورکھیتوں میں داخل ہوگیا۔
لاہورمیں آئندہ ہفتے کچرا اٹھانے کے بل بھیجے جائیں گے،ترجمان ایل ڈبلیو ایم سی
قبل ازیں دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی تھی ۔ پانی کی سطح میں آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
دریائے ستلج گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 21 فٹ سے تجاوز کر گئی۔ اور گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 60 ہزار کیوسک ہونے کا امکان ہے۔ سیلابی پانی سے 30 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع اور سیکڑوں خاندان متاثر ہو چکے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ جبکہ انتظامیہ کی جانب سے دریائے ستلج کے کنارے جانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ چاول، مکئی اور جوار کی 3 ہزار ایکڑ تیار فصلیں دریائے ستلج کی نذر ہو گئیں۔
گندم کی فی من قیمت 2200 سے بڑھ کر 2800 روپے ہو گئی
سیلابی صورتحال کے باعث 10 دیہات کی فصلیں مکمل طور پر زیر آب آ گئی ہیں۔ ریسکیو اور پولیس کی مدد سے متاثرہ آبادیوں سے لوگوں کا انخلا جاری ہے۔ اور 5 ہزار 400 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
قصور کے متاثرہ دیہات کے اسکولوں میں عارضی ریلیف کیمپ قائم کر دیا گیا۔دریائے ستلج کا پانی گھروں میں داخل ہونے سے لوگ چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ جبکہ 35 سے زائد چھوٹے بڑے متاثرہ دیہات کے زمینی رابطے مکمل طور پر منقطع ہے۔
