اسلام آباد (فرحان بخاری): جیسے جیسے پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ملک بھر میں پھیلے تباہ کن مناظر نے اس المیے کی نہایت خوفناک تصویریں سامنے لا دی ہیں۔
کئی دنوں سے جاری اس تباہی نے قیمتی جانیں لے لی ہیں۔ جبکہ گھروں، کاروبار اور دیگر جائیدادوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حالیہ بارشوں کے سلسلے نے کراچی کو مفلوج کر دیا ہے۔ جو پاکستان کا اہم ترین جنوبی بندرگاہی شہر ہے اور قومی آبادی کا تقریباً 10 فیصد حصہ یہاں رہتا ہے۔
نسلی اور سیاسی تقسیم کی بنیاد پر دہائیوں سے جاری غفلت کے باعث۔ بارش سے پیدا ہونے والی تازہ ترین آفت نے کراچی کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ساحلی شہر ہونے کے باوجود، کراچی میں حد سے زیادہ بارش نے اہم ترین خدمات مثلاً پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو بری طرح متاثر کر کے معطل کر دیا ہے۔
ابتدائی جائزوں کے مطابق، سرکاری اہلکاروں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض خدمات کو معمول پر آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
کراچی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہری انفراسٹرکچر کو جائیدادوں کے علاوہ بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ جن میں بجلی کی تاروں کا نظام اور گیس و پانی کی پائپ لائنز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، سینکڑوں گاڑیاں، بشمول کاریں، بسیں۔ رکشے اور موٹر سائیکلیں بارش کے پانی میں ڈوبنے سے بری طرح خراب ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بارش ہوگی تو پانی تو جمع ہو گا، بارش رکے گی تو پانی نکال دیں گے، وزیر اعلیٰ سندھ
اسی دوران شمالی پاکستان میں بھی حد سے زیادہ بارش نے گھروں۔ دکانوں اور تجارتی املاک کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ سرکاری حکام نے پشاور سے بتایا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولتیں اور اسکول بھی متاثر ہوئے ہیں۔ طلبا جو اس ماہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد اسکول واپس جانے والے تھے۔ ان بارشوں سے پیدا ہونے والی آفات نے معمول کی کلاسوں کے دوبارہ شروع ہونے میں تاخیر کے امکانات بڑھا دیئے ہیں۔
اب تک رپورٹ ہونے والے نقصانات کے باوجود،جانی و مالی نقصان کے حتمی اعدادوشمار سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے حکام آئندہ دنوں میں مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ جو ان علاقوں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں جو اب تک محفوظ رہے ہیں۔
جیسے جیسے پاکستان کے مختلف حصوں میں تباہی پھیل رہی ہے۔ اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے حکام ملک بھر میں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بدھ کو اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (UNOCHA) نے پاکستان میں اپنے دفتر کے ذریعے جاری بیان میں خبردار کیا کہ “بہت سی متاثرہ برادریاں دور دراز علاقوں میں واقع ہیں۔ جس کے باعث ہنگامی امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔”
UNOCHA کے اندازے کے مطابق اب تک 600 سے زائد مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ اور ایک ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ تاہم، سرکاری حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اس مرحلے پر کوئی بھی حتمی اندازہ درست نہیں ہو سکتا۔ خاص طور پر شمالی پاکستان میں امدادی کارکنوں کو دوردراز متاثرہ برادریوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
