ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری، وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے میڈیا بریفنگ میں مون سون سیزن، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی صورتحال کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ حالیہ مون سون سیزن میں زیادہ بارشیں ہوئیں، مختلف علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے تباہی ہوئی، کل اور پرسوں جو لوگ لاپتہ ہوئے ان کی تلاش جاری ہے، سیلاب کے باعث 670 اموات ہوئیں اور 1000 افراد زخمی ہوئے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ ریسکیو عمل کے دوران سیلاب میں بہہ جانے والوں کی لاشیں مل رہی ہیں، 3 سے 4 دنوں میں 25 ہزار سے زائد لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے، اگست کے آخری ہفتے میں بارش کا ایک اور سلسلہ متوقع ہے۔
اسلامی ریاست کی بنیاد فتوحات پر نہیں، سماجی انصاف پر ہے، احسن اقبال
وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیلابی صورتحال پر ادارے کام کررہے ہیں، این ڈی ایم اے ہیڈ کوارٹرز میں سیلابی صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے، حالیہ بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، آرمی چیف کی ہدایات پر پاک فوج کے دستے متاثرہ علاقوں میں بھجوائے گئے، اس وقت خیبرپختونخوا میں ایف سی اور انفنٹری کے 8 یونٹس کام کررہے ہیں، پاک فوج کا ایک یونٹ گلگت بلتستان میں کام کررہا ہے۔
بلوچستان میں بارشوں سے تباہ کاریاں، رپورٹ جاری
احمد شریف چوہدری نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ 9 میڈیکل کیمپوں کے ذریعے متاثرین کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، سیلابی صورتحال کے دوران 6 ہزار 903 افراد کو ریسکیو کیا گیا، اب تک 6 ہزار سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی ایوی ایشن بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے، میڈیکل بٹالین کے علاوہ سی ایم ایچ سے ڈاکٹرز کو خیبرپختونخوا روانہ کیا گیا، بونیر میں 2 بٹالین امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، راستوں کی بحالی کے لیے انجینئرز بٹالین مصروف عمل ہے۔
